حکمراں دہشت گردی کے خاتمے کیلیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دھاندلی زدہ انتخابات کو 2سال مکمل ہوگئے، حکومت عوامی تائید سے مکمل طور پر محروم ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری بدامنی کی لہر انتہائی تشویش ناک ہے۔ منصورہ میں ملک بھر سے آئے اراکین مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کے دوران امیر جماعت کا کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی عناصر ملک میں انتشار کی وجہ ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے۔ حکمرانوں کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ حکمرانوں کو ٹرمپ کی خوشنودی کی بجائے ملک و قوم کے وقار اور آزادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ مشرف نے پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیلا جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے، موجودہ حکمرانوں نے بھی وہی راستہ اختیار کرلیا ہے، یہ چلے جائیں گے قوم مزید نتائج بھگتے گی۔ بہتری کے لیے فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالوں کو رخصت کرنا پڑے گا، اجتماع عام سے بدل دو نظام تحریک کا آغاز کیا، مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں تحریک چلا رہے ہیں، عید کے بعد آئی پی پیز کے خلاف بھی تحریک کا ازسرِ نو آغاز ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے ایک دفعہ پھر واضح کیا کہ جماعت اسلامی حکومت کی ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ یہ نام نہاد امن بورڈ دراصل اقوام متحدہ کے متوازی ادارہ ہے، امریکی صدر دنیا میں نو آبادیاتی نظام کی بحالی کے راستے پر گامزن ہے، واشنگٹن اسرائیل کا مکمل پشت پناہ اور حماس کو غیر مسلح کرکے اہل فلسطین کا حق دفاع بھی چھیننا چاہتا ہے، پاکستانی فوج اگر غزہ جاتی ہے تو اسے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ کے اقدامات اور خواہشات کو تسلیم کرنا ہوگا، لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ حکمران ایسے اقدامات سے باز رہیں جو قوم کے وقار کے منافی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی پالیسی قابل ستائش اور دنیا کی تمام اسلامی و مزاحمتی تحریکوں کے لیے مثال ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے غزہ بورڈ میں شمولیت نہ کرنے سے متعلق مولانا فضل الرحمن کے موقف کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جے یوآئی کے سربرہ کو فون کیا ہے، ان سے جلد ملاقات بھی ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمن نے وادی تیراہ کی صورت حال پریشان کن قرار دیا اور حکمرانوں سے سوال کیا کہ کیا عوام کو وہاں سے نکالنے کے بعد دہشت گرد وہاں بیٹھے رہیں گے جن کیخلاف آہریشن ہوگا۔؟مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ انہوں نے پنجاب میں سرکاری سکولوں کی نج کاری کی مخالفت جاری رکھنے کا اعلان کیا اور صوبہ کے کسان، مزدور اور دیگر مظلوم طبقات کو جماعت اسلامی کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام کی آواز اٹھانے پر جماعت اسلامی کراچی کی جدوجہد کی تحسین کی۔ امیر جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کے زی-کنیکٹ اور بنوقابل پروگرام کو بھی سراہا اور کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی بہتری کے اقدامات جاری رکھے گی اور انہیں ساتھ ملا کر ملک میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن منصورہ میں مرکزی شوریٰ کے 3روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔