رہنماؤ ں کی گرفتاری‘ مرکزی شوریٰ میں سندھ حکومت کے فاشزم کیخلاف قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-15
لاہور( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور مرکزی شوریٰ نے کراچی میں عوامی پریس کانفرنس پر پولیس کریک ڈاؤن اور کارکنان کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جماعتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں سندھ حکومت کے فاشزم اور غیر جمہوری طرزِ عمل کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں پر ظلم و جبر کا راستہ اختیار کیا، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ عوامی حقوق کی بحالی کے لیے پرامن اور جمہوری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنا کھلی آمریت ہے۔مجلسِ شوریٰ کی قرارداد میں کہا گیا کہ جمہوریت کی دعویدار پیپلز پارٹی عوامی احتجاج کو ظالمانہ ہتھکنڈوں سے دبا نہیں سکتی۔ جماعتِ اسلامی سندھ حکومت کے ان فسطائی اقدامات کا بھرپور اور ہر سطح پر مقابلہ کرے گی۔قرارداد میں کراچی کے قائم مقام امیر سمیت تمام گرفتار کارکنان کی فوری اور بلا مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
کراچی: قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز ‘رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ودیگررہائی کے بعد ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔