ساحل سمندر کی صفائی مہم ‘طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) ساحلوں کو آلودگی سے بچانے اور شہریوں میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور پتھم انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے صفائی مہم اور پلاسٹک فری آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔مہم ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، طارق علی نظامانی کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی اس مہم میں نوجوان طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے ساحل پر بکھرے ہوئے کچرے، پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں کو جمع کر کے ماحول دوست بیگز میں منتقل کیا۔اس موقع پر طارق علی نظامانی نے خصوصی شرکت کی انہوں نے طلبا سے اپنے پیغام میں کہاکہ نوجوانوں اور بچوں کی اس سرگرمی میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری آنے والی نسل اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ اداروں کے ساتھ ساتھ عوامی شمولیت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم کراچی کوایک عالمی معیار کے مطابق صاف ستھرا شہر بنا سکتے ہیں۔مہم کے دوران اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا کہ پلاسٹک کا فضلہ نہ صرف ساحل سمندرکی خوبصورتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ سمندری حیات کے لیے خطرہ ہے پلاسٹک کا کچرا سمندری جانداروں کی خوراک بن کر انہیں ہلاک کر رہا ہے۔ کچرا اور پلاسٹک کی تھیلیاں شہر کے ندی نالوں میں پھنس کر نکاسیِ آب کے نظام کو خراب کر دیتی ہیں، جو بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال کا سبب بنتا ہے۔پتھم کی منیجر اکیڈمک سارہ فیصل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کا کام صرف نصابی تعلیم دینا نہیں بلکہ ذمہ دار شہری بنانا بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں