ورلڈ بینک کا پاکستان کے10 سالہ ترقیاتی پروگرام کیلیے حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-08-20
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ بینک نے پاکستان کے10سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی عرب میں سالانہ الولا کانفرنس برائے ایمرجنگ مارکیٹ اکانومیز کے موقع پر ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر اینا بجرڈ سے ملاقات کی جہاں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش اہم معاشی مسائل اور مواقع پر غور کیا گیا۔ ملاقات کے دوران کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں فریقین نے توانائی، تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی۔اس موقع پر اینا بجرڈے نے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے ورلڈ بینک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور پروگرام کے مثبت ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے مؤثر اور بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ وفاقی وزارتیں مکمل تعاون فراہم کریں گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بہتر کوآرڈینیشن اور بروقت عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کا فعال کردار اور تعاون نہایت ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔