بنگلادیش کے انتخابات، اور جماعت ِ اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-04-2
بنگلادیش اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف طویل عرصے سے مسلط سیاسی جمود، جبر، خوف اور محدود جمہوریت کا تسلسل ہے، تو دوسری جانب عوام کے دلوں میں ایک نئی امید، بیداری اور تبدیلی کی تڑپ جنم لے چکی ہے۔ ایسے حالات میں جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کی بھر پور انتخابی مہم اور اس کی مقبولیت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اس وقت جماعت اسلامی کی فکری، اخلاقی اور سماجی تحریک ملک کو ایک نئے راستے پر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امیر جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن کا حالیہ انتخابی خطاب بہت اہم رہے ہیں وہ اسی بدلتے ہوئے قومی شعور کا واضح اظہار ہے، برشال کے زرخیز اور سیاسی طور پر بیدار خطے بائوفل میں منعقدہ تاریخی انتخابی جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگلا دیش کے عوام اب خاموش تماشائی بننے کو تیار نہیں۔ پبلک گراؤنڈ میں عوام کی غیر معمولی شرکت نے یہ پیغام دیا کہ ملک میں انصاف، عدل اور آزادی کے حق میں ایک طاقتور عوامی مدوجزر پیدا ہو چکا ہے، جو پرانے اور نئے ہر طرح کے فاشزم کو مسترد کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے جس جرأت اور اعتماد کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ عوام فاشزم کے خلاف ’’لال کارڈ‘‘ دکھانے کے لیے تیار ہیں، وہ دراصل بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ان سب کے پیچھے ایک تاریخ ہے اور یہ اس اجتماعی شعور کا اظہار ہے جو برسوں کی ناانصافی، سیاسی انتقام، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور ریاستی جبر کے نتیجے میں پروان چڑھا ہے۔ عوام اب ایسی سیاست سے نجات چاہتے ہیں جو اقتدار کو چند ہاتھوں تک محدود رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو پس ِ پشت ڈال دیتی ہے۔ جماعت ِ اسلامی کا سب سے نمایاں پہلو اس کا مستقبل کا واضح اور منظم وژن ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے یہ بات نہایت دوٹوک انداز میں پیش کی کہ ترازو (دارِ پلہ) کے نشان پر ووٹ دینا محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک جدید، ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنگلا دیش کے قیام کی ضمانت ہے۔ یہ وژن اس حقیقت سے جڑا ہوا ہے کہ آج کی دنیا میں ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ انسانی سرمائے، علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مہارت سے ناپی جاتی ہے۔ نوجوان بنگلا دیش کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، مگر بدقسمتی سے یہی طبقہ سب سے زیادہ مایوسی، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کا شکار رہا ہے۔ جماعت ِ اسلامی نے نوجوانوں کو عالمی معیار کا باصلاحیت انسانی سرمایہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ دراصل ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتیں، تعلیم اور تحقیق وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط اور خوددار ریاست کھڑی ہو سکتی ہے، اور جماعت ِ اسلامی کا بیانیہ اسی سمت اشارہ کرتا ہے۔ جماعت ِ اسلامی کا انتخابی منشور بھی اس کی سنجیدگی اور فکری پختگی کا عکاس ہے۔ ایک منفرد 5 ’’ہاں‘‘ اور 5 ’’نہ‘‘ کے اصولی وعدے اور 26 بنیادی نکات پر مشتمل یہ منشور محض روایتی دعوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور عملی فریم ورک لگتا ہے۔ ’’ہاں‘‘ کا مطلب انصاف، شفافیت، جوابدہی، انسانوں کی قدر عزت اور عوامی خدمت سے وابستگی ہے، جبکہ ’’نہ‘‘ بنگلادیش میں بدعنوانی، جبر، ناانصافی، اقرباپروری اور استحصالی نظام کے مکمل خاتمے کا اعلان ہے۔ یہی واضح لکیر ہے جو جماعت ِ اسلامی کو روایتی سیاسی قوتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن کا یہ کہنا کہ اگر عوام کی محبت اور اعتماد سے جماعت ِ اسلامی کو ریاستی نظم و نسق کی ذمے داری ملی تو آئندہ پانچ برسوں میں 26 بنیادی امور کو ترجیح دی جائے گی، دراصل سیاست میں جوابدہی کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہی رہا ہے کہ انتخابی وعدے اقتدار میں آنے کے بعد فراموش کر دیے جاتے ہیں، مگر جماعت ِ اسلامی کا یہ واضح روڈ میپ عوام کے سامنے ایک قابل ِ احتساب معیار رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ بنگلا دیش میں جماعت ِ اسلامی کے خلاف ماضی میں سختیاں، پابندیاں اور ریاستی دباؤ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس کے باوجود عوامی سطح پر جس طرح جماعت ِ اسلامی کے لیے ہمدردی اور حمایت بڑھ رہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریات کو طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کوئی جماعت عوامی مسائل کو ایمانداری سے اپنا مسئلہ بناتی ہے تو بالآخر عوام اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ آئندہ انتخابات بنگلا دیش کے لیے محض حکومت کی تبدیلی کا موقع نہیں بلکہ ایک نئے سماجی اور سیاسی معاہدے کا لمحہ ہیں۔ یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ آیا وہ خوف، جبر اور محدود جمہوریت کے پرانے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں یا انصاف اور انسانی اقدار پر مبنی ایک نئے بنگلا دیش کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ جماعت ِ اسلامی کی جانب سے پیش کیا جانے والا وژن اس دوسرے راستے کی طرف ایک مضبوط دعوت ہے۔ اگر یہ عوامی بیداری اپنی منزل تک پہنچتی ہے اور بیلٹ باکس کے ذریعے اپنا اظہار کرتی ہے تو بنگلا دیش نہ صرف داخلی طور پر استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثبت مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔ ایک ایسا بنگلا دیش جو انصاف، شفاف حکمرانی اور انسانی وقار کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے، بلاشبہ یہی وہ امید کی کرن ہے جس کی جھلک آج جماعت ِ اسلامی کے انتخابی منظرنامے میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اب آنے والا وقت بتائے گا کہ بنگلادیش کے عوام نے اپنے مستقبل کے لیے کیا سوچ رکھا ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بنگلا دیش کی عوام کی آرا کو قبول کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمن بنگلا دیش کی اسلامی کا ایک نئے دیش کے کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔