Jasarat News:
2026-06-02@23:10:53 GMT

سندھ میں فائر سیفٹی کا بحران

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-5
سانحہ گل پلازہ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ اجتماعی ضمیر کو بھی جھلسا دیا ہے۔ وہ انسان جو روزگار، علاج یا معمول کی زندگی کی امید لیے اس عمارت میں داخل ہوئے تھے، غفلت اور کوتاہی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ آگ نے انسانی زندگیوں کا چراغ بجھایا ہو؛ ہمارا ماضی ایسے اندوہناک واقعات سے بھرا پڑا ہے جہاں ہر سانحے کے بعد چند آنسو، چند بیانات اور پھر وہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، وعدے دہرائے جاتے رہے، مگر حفاظتی اقدامات ہمیشہ فہرست کے آخر میں ڈال دیے گئے۔ گل پلازہ کا سانحہ دراصل ایک سوال ہے جو شعلوں کی زبان میں ہم سے پوچھ رہا ہے کہ آخر کب تک انسانی جانیں لاپروائی کی قیمت ادا کرتی رہیں گی، اور کب فائر سیفٹی کو رسمی کاغذی تقاضے کے بجائے زندگی بچانے والے فریضے کے طور پر لیا جائے گا۔ سندھ میں پیش آنے والے بار بار کے آتش زدگی کے واقعات اب محض حادثات نہیں رہے بلکہ ایک واضح انتباہ بن چکے ہیں کہ سرکاری، نجی اور تجارتی عمارتوں میں حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد ایک سنگین انتظامی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ صرف عمارتوں کی ساخت یا آلات کی کمی تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام سے جڑا ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا مگر عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔

سندھ کے شہری مراکز، خصوصاً کراچی، میں بلند عمارتوں، تجارتی مراکز، دفاتر، فیکٹریوں اور رہائشی منصوبوں کی تیز رفتار تعمیر نے فائر سیفٹی کو ایک ناگزیر قانونی تقاضا بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری سطح پر پیش کیے گئے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی میں 265 سے زائد بلند عمارتیں ایسی تھیں جن کے پاس فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ ان اداروں کی نگرانی بھی ناکام رہی جن کی ذمے داری انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑی ہے۔ اسی طرح سرکاری سرویز کے مطابق کراچی کے بعض اضلاع میں تقریباً 90 فی صد عمارتیں بنیادی فائر حفاظتی انتظامات سے محروم پائی گئیں۔ جب کسی شہر کی اکثریت عمارتیں ان بنیادی تقاضوں کو پورا نہ کریں تو یہ صورت حال محض تکنیکی خامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن جاتی ہے۔

فائر سیفٹی کے قوانین اور بلڈنگ کوڈز میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ ہر سرکاری، نجی اور تجارتی عمارت میں آگ سے تحفظ کے مناسب اور فعال انتظامات ہونا لازم ہیں۔ ان قوانین کی روح یہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کو کم سے کم خطرے کا سامنا ہو۔ تاہم عملی حقیقت یہ ہے کہ کئی عمارتوں میں یا تو یہ نظام نصب ہی نہیں کیے جاتے یا اگر کیے بھی جائیں تو ان کی باقاعدہ جانچ، مرمت اور تربیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کا کمزور نفاذ ہے۔ فائر بریگیڈ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، مقامی حکومت اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی اپنی ذمے داریوں کے دائرے میں تو موجود ہیں، مگر ان کے درمیان مربوط نگرانی، مشترکہ ڈیٹا اور سخت احتساب کا فقدان نظر آتا ہے۔ نتیجتاً خلاف ورزی کرنے والی عمارتیں برسوں تک استعمال میں رہتی ہیں اور خطرہ خاموشی سے بڑھتا رہتا ہے۔

حالیہ عرصے میں سندھ حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ اس مسئلے کی سنگینی کا اعتراف ہے۔ اس آڈٹ کے ابتدائی مرحلے میں 2,368 عمارتوں کی جانچ پڑتال شامل کی گئی، جن میں سرکاری دفاتر، نجی رہائشی عمارتیں اور بڑے تجارتی مراکز شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد محض ریکارڈ مرتب کرنا نہیں بلکہ عمارتوں میں موجود فائر الارمز، ایمرجنسی ایگزٹس، اسموک ڈیٹیکٹرز، برقی وائرنگ اور دیگر حفاظتی نظاموں کا عملی معائنہ کرنا ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ آڈٹ بذاتِ خود حل نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آڈٹ کے بعد کیا ہوگا؟ اگر کسی عمارت میں فائر حفاظتی تقاضوں کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ جب تک جرمانے، معطلی، قانونی کارروائی اور اصلاحی اقدامات واضح اور فوری نہ ہوں، اس طرح کے اقدامات محض انتظامی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ فائر سیفٹی کا مسئلہ صرف اداروں تک محدود نہیں بلکہ عوامی شعور کی کمی بھی اس میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ بہت سے عمارت مالکان اور کاروباری افراد فائر سیفٹی کو اضافی خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ خرچ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ میں سرمایہ کاری ہے۔ اسی طرح رہائشی اور ملازمین اکثر یہ نہیں جانتے کہ ہنگامی صورتحال میں کہاں جانا ہے، کون سا راستہ استعمال کرنا ہے اور فائر ایکسٹنگشر کس طرح چلانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فائر سیفٹی کو صرف قانون اور ضابطے تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم اور تربیت کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ اسکولوں، کالجوں، دفاتر، مارکیٹوں اور رہائشی عمارتوں میں باقاعدہ فائر ڈرلز، تربیتی سیشن اور آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں تاکہ ہر فرد عملی طور پر یہ جان سکے کہ خطرے کی صورت میں کس طرح ردعمل دینا ہے۔

نجی شعبے کی ذمے داری اس حوالے سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہوٹلوں، شاپنگ مالز، فیکٹریوں، گوداموں اور دفتری عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔ ملازمین کی تربیت، حفاظتی آلات کی بروقت مرمت، اور ایمرجنسی پلان کی تیاری وہ اقدامات ہیں جو کسی بڑے سانحے کو روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ فائر سیفٹی کا معاملہ کسی ایک ادارے یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہر عمارت کا مالک، ہر منتظم، ہر سرکاری افسر اور ہر شہری اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے قبول نہیں کرے گا، آگ کا خطرہ ہماری بستیوں پر منڈلاتا رہے گا۔ قوانین کاغذ پر نہیں بلکہ عمل میں جان بچاتے ہیں، اور یہی عمل سندھ کو ایک محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فائر سیفٹی کو عمارتوں میں نہیں بلکہ میں فائر

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود