Jasarat News:
2026-07-24@01:16:43 GMT

سندھ میں فائر سیفٹی کا بحران

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-5
سانحہ گل پلازہ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ اجتماعی ضمیر کو بھی جھلسا دیا ہے۔ وہ انسان جو روزگار، علاج یا معمول کی زندگی کی امید لیے اس عمارت میں داخل ہوئے تھے، غفلت اور کوتاہی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ آگ نے انسانی زندگیوں کا چراغ بجھایا ہو؛ ہمارا ماضی ایسے اندوہناک واقعات سے بھرا پڑا ہے جہاں ہر سانحے کے بعد چند آنسو، چند بیانات اور پھر وہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، وعدے دہرائے جاتے رہے، مگر حفاظتی اقدامات ہمیشہ فہرست کے آخر میں ڈال دیے گئے۔ گل پلازہ کا سانحہ دراصل ایک سوال ہے جو شعلوں کی زبان میں ہم سے پوچھ رہا ہے کہ آخر کب تک انسانی جانیں لاپروائی کی قیمت ادا کرتی رہیں گی، اور کب فائر سیفٹی کو رسمی کاغذی تقاضے کے بجائے زندگی بچانے والے فریضے کے طور پر لیا جائے گا۔ سندھ میں پیش آنے والے بار بار کے آتش زدگی کے واقعات اب محض حادثات نہیں رہے بلکہ ایک واضح انتباہ بن چکے ہیں کہ سرکاری، نجی اور تجارتی عمارتوں میں حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد ایک سنگین انتظامی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ صرف عمارتوں کی ساخت یا آلات کی کمی تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام سے جڑا ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا مگر عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔

سندھ کے شہری مراکز، خصوصاً کراچی، میں بلند عمارتوں، تجارتی مراکز، دفاتر، فیکٹریوں اور رہائشی منصوبوں کی تیز رفتار تعمیر نے فائر سیفٹی کو ایک ناگزیر قانونی تقاضا بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری سطح پر پیش کیے گئے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی میں 265 سے زائد بلند عمارتیں ایسی تھیں جن کے پاس فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔ یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ ان اداروں کی نگرانی بھی ناکام رہی جن کی ذمے داری انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑی ہے۔ اسی طرح سرکاری سرویز کے مطابق کراچی کے بعض اضلاع میں تقریباً 90 فی صد عمارتیں بنیادی فائر حفاظتی انتظامات سے محروم پائی گئیں۔ جب کسی شہر کی اکثریت عمارتیں ان بنیادی تقاضوں کو پورا نہ کریں تو یہ صورت حال محض تکنیکی خامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن جاتی ہے۔

فائر سیفٹی کے قوانین اور بلڈنگ کوڈز میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ ہر سرکاری، نجی اور تجارتی عمارت میں آگ سے تحفظ کے مناسب اور فعال انتظامات ہونا لازم ہیں۔ ان قوانین کی روح یہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کو کم سے کم خطرے کا سامنا ہو۔ تاہم عملی حقیقت یہ ہے کہ کئی عمارتوں میں یا تو یہ نظام نصب ہی نہیں کیے جاتے یا اگر کیے بھی جائیں تو ان کی باقاعدہ جانچ، مرمت اور تربیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کا کمزور نفاذ ہے۔ فائر بریگیڈ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، مقامی حکومت اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی اپنی ذمے داریوں کے دائرے میں تو موجود ہیں، مگر ان کے درمیان مربوط نگرانی، مشترکہ ڈیٹا اور سخت احتساب کا فقدان نظر آتا ہے۔ نتیجتاً خلاف ورزی کرنے والی عمارتیں برسوں تک استعمال میں رہتی ہیں اور خطرہ خاموشی سے بڑھتا رہتا ہے۔

حالیہ عرصے میں سندھ حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ اس مسئلے کی سنگینی کا اعتراف ہے۔ اس آڈٹ کے ابتدائی مرحلے میں 2,368 عمارتوں کی جانچ پڑتال شامل کی گئی، جن میں سرکاری دفاتر، نجی رہائشی عمارتیں اور بڑے تجارتی مراکز شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد محض ریکارڈ مرتب کرنا نہیں بلکہ عمارتوں میں موجود فائر الارمز، ایمرجنسی ایگزٹس، اسموک ڈیٹیکٹرز، برقی وائرنگ اور دیگر حفاظتی نظاموں کا عملی معائنہ کرنا ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ آڈٹ بذاتِ خود حل نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آڈٹ کے بعد کیا ہوگا؟ اگر کسی عمارت میں فائر حفاظتی تقاضوں کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ جب تک جرمانے، معطلی، قانونی کارروائی اور اصلاحی اقدامات واضح اور فوری نہ ہوں، اس طرح کے اقدامات محض انتظامی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ فائر سیفٹی کا مسئلہ صرف اداروں تک محدود نہیں بلکہ عوامی شعور کی کمی بھی اس میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ بہت سے عمارت مالکان اور کاروباری افراد فائر سیفٹی کو اضافی خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ خرچ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ میں سرمایہ کاری ہے۔ اسی طرح رہائشی اور ملازمین اکثر یہ نہیں جانتے کہ ہنگامی صورتحال میں کہاں جانا ہے، کون سا راستہ استعمال کرنا ہے اور فائر ایکسٹنگشر کس طرح چلانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فائر سیفٹی کو صرف قانون اور ضابطے تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم اور تربیت کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ اسکولوں، کالجوں، دفاتر، مارکیٹوں اور رہائشی عمارتوں میں باقاعدہ فائر ڈرلز، تربیتی سیشن اور آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں تاکہ ہر فرد عملی طور پر یہ جان سکے کہ خطرے کی صورت میں کس طرح ردعمل دینا ہے۔

نجی شعبے کی ذمے داری اس حوالے سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہوٹلوں، شاپنگ مالز، فیکٹریوں، گوداموں اور دفتری عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔ ملازمین کی تربیت، حفاظتی آلات کی بروقت مرمت، اور ایمرجنسی پلان کی تیاری وہ اقدامات ہیں جو کسی بڑے سانحے کو روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ فائر سیفٹی کا معاملہ کسی ایک ادارے یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہر عمارت کا مالک، ہر منتظم، ہر سرکاری افسر اور ہر شہری اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے قبول نہیں کرے گا، آگ کا خطرہ ہماری بستیوں پر منڈلاتا رہے گا۔ قوانین کاغذ پر نہیں بلکہ عمل میں جان بچاتے ہیں، اور یہی عمل سندھ کو ایک محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فائر سیفٹی کو عمارتوں میں نہیں بلکہ میں فائر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن