پنجاب میں بسنت کے نام پر خونی کھیل کھیلاگیا، حافظ نصراللہ عزیز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(جسارت نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ حافظ نصراللہ عزیز چنا نے کہا ہے کہ جب حکمران کھیل تماشوں میں مصروف ہوں تو عوام کی زندگیاں غیر محفوظ ہو ں گی بسنت کے نام پر جو خون کی ہولی کھیلی گئی اور جو قیمتی جانوں اور پیسے کا ضائع ہوا اس کا مقدمہ حکمرانوں کیاوپر درج ہو نا چاہیے قبضہ مئیر اور سندھ حکومت کے خلاف چودہ فروری کو تاریخی دھرنا ہو گا یہ بات انھوں نے کارکناں سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا ھکمران عوام کی جان و مال کے تحفظ سے بالکل بے پرواہ ہو چکے ہیں انھوں نے کہا ان کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اسلام آباد کی مسجد میں دھماکہ ہوا اور مصوم قیمتی جانیں گئیں لیکن یہ اپنی بسنت منانے میں مصروف رہے انھوں نے کہا کہ جب حکمران کھیل تماشوں میں مصروف ہوں تو عوام کو تحفظ کہاں سے حاصل ہو گا انھوں نے کہا حکمرانوں کے اس خونی کھیل تماشے میں ایک درجن کے قریب لوگ اپنی جان سے گئے اور اربوں روپیہ عوام کا فضول خرچ کردیا اگر یہ پیسہ عوام کی بھلائی اور انھیں ریلیف دینے پرلگایا جاتا تو عوام کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے انھوں نے حکمرانوں کے خلاف اس پر مقدمہ درج ہو نا چاہیے انھوں نے کہا چودہ فروری کا دھرنا عوام کے حقوق کا دھرنا ہے پیپلزپارٹی پر اس کا خوف طاری ہے اس وجہ سے وہ شور مچارہے ہیں لیکن اس دھرنے میں کراچی کی عوام بھرپور شرکت کرکے ثابت کر دے گی کہ کراچی کا قبضہ مئیر انھیں منظور نہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے کہا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔