معاشی آزادی، اصلاحات اور زمینی حقائق میں تضاد برقرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے انڈیکس آف اکنامک فریڈم میں پاکستان کو 2025 کی رپورٹ میں “دباؤ کا شکار معیشت” قراردیاگیا تھا، جہاں ملک 184 ممالک میں 150ویں نمبر پر رہااور اسے 100 میں سے 49.1 پوائنٹس ملے۔
یہ انڈیکس معاشی آزادی کے 12 پیمانوں پر ممالک کی درجہ بندی کرتاہے،جن میں جائیدادکے حقوق، ٹیکس بوجھ، حکومتی اخراجات،کاروباری آزادی،محنت کی آزادی اور مالیاتی استحکام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے معاشی اصلاحات کیلیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے،جبکہ عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور بدعنوانی نے جائیدادکے حقوق کوکمزورکیا۔ لیبر مارکیٹ جمودکاشکار رہی اور مہنگائی نے مالیاتی استحکام کومتاثرکیا.
2025 کی رپورٹ کیلیے ڈیٹا جون 2024 تک شامل کیا گیا تھا، اس لیے اس وقت مہنگائی اورڈیفالٹ سے بچاؤ پرتوجہ کوبھی مدنظررکھا جانا چاہیے، تاہم انڈیکس کے بعض پہلو زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
مثال کے طور پر، حکومتی اخراجات 88.9 فیصد اور ٹیکس بوجھ 78.3 فیصد میں پاکستان کو غیر معمولی طور پر بہتر اسکور دیا گیا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کل اخراجات کا تقریباً 70 فیصد سود اوردفاع پر خرچ ہو جاتا ہے،جبکہ ٹیکس دینے والوں پر بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔
2026 کی پہلی سہ ماہی میں صورتحال ملی جلی دکھائی دیتی ہے،ایک طرف مہنگائی کم ہوکر تقریباً 5 فیصد تک آچکی ہے، پی آئی اے کی نجکاری، تجارتی ٹیرف میں اصلاحات اورریگولیٹری گلوٹین جیسے اقدامات سے اصلاحات کے عزم کااظہار ہوتاہے۔
دوسری طرف، انفرادی آمدنی پر ٹاپ ٹیکس کی شرح 45 فیصد تک بڑھ چکی ہے،جبکہ سپر ٹیکس کوعدالتی تحفظ ملنے سے بڑی کمپنیوں پر مؤثر ٹیکس بوجھ 50 فیصدسے تجاوزکرگیاہے۔
عدلیہ میں بڑھتی سیاسی مداخلت،جیساکہ آئی ایم ایف کی حالیہ ڈائگناسٹک رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی،سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثرکر رہی ہے۔
نجی شعبے کی نئی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا،جبکہ 2025 کے آخری چھ ماہ میں برآمدات بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہیں، مجموعی طور پر، ادارہ جاتی نقطہ نظر سے پاکستان کی معاشی آزادی کامنظرنامہ متضاد ہے۔
اگر اصلاحات کی گئیں تو اسکور میں بہتری ممکن ہے،مگر بے روزگاری، غیر رسمی معیشت، عدالتی کمزوریاں اور سرمایہ کاری میں جمودجیسے عوامل بہتری کومحدودکرسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں