Express News:
2026-06-02@22:24:37 GMT

معاشی آزادی، اصلاحات اور زمینی حقائق میں تضاد برقرار

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

اسلام آباد:

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے انڈیکس آف اکنامک فریڈم میں پاکستان کو 2025 کی رپورٹ میں “دباؤ کا شکار معیشت” قراردیاگیا  تھا، جہاں ملک 184 ممالک میں 150ویں نمبر پر رہااور اسے 100 میں سے 49.1 پوائنٹس ملے۔

یہ انڈیکس معاشی آزادی کے 12 پیمانوں پر ممالک کی درجہ بندی کرتاہے،جن میں جائیدادکے حقوق، ٹیکس بوجھ، حکومتی اخراجات،کاروباری آزادی،محنت کی آزادی اور مالیاتی استحکام شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے معاشی اصلاحات کیلیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے،جبکہ عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور بدعنوانی نے جائیدادکے حقوق کوکمزورکیا۔ لیبر مارکیٹ جمودکاشکار رہی اور مہنگائی نے مالیاتی استحکام کومتاثرکیا.

 

2025 کی رپورٹ کیلیے ڈیٹا جون 2024 تک شامل کیا گیا تھا، اس لیے اس وقت مہنگائی اورڈیفالٹ سے بچاؤ پرتوجہ کوبھی مدنظررکھا جانا چاہیے، تاہم انڈیکس کے بعض پہلو زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر، حکومتی اخراجات 88.9 فیصد اور ٹیکس بوجھ 78.3 فیصد میں پاکستان کو غیر معمولی طور پر بہتر اسکور دیا گیا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کل اخراجات کا تقریباً 70 فیصد سود اوردفاع پر خرچ ہو جاتا ہے،جبکہ ٹیکس دینے والوں پر بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔

2026 کی پہلی سہ ماہی میں صورتحال ملی جلی دکھائی دیتی ہے،ایک طرف مہنگائی کم ہوکر تقریباً 5 فیصد تک آچکی ہے، پی آئی اے کی نجکاری، تجارتی ٹیرف میں اصلاحات اورریگولیٹری گلوٹین جیسے اقدامات سے اصلاحات کے عزم کااظہار ہوتاہے۔

دوسری طرف، انفرادی آمدنی پر ٹاپ ٹیکس کی شرح 45 فیصد تک بڑھ چکی ہے،جبکہ سپر ٹیکس کوعدالتی تحفظ ملنے سے بڑی کمپنیوں پر مؤثر ٹیکس بوجھ 50 فیصدسے تجاوزکرگیاہے۔

عدلیہ میں بڑھتی سیاسی مداخلت،جیساکہ آئی ایم ایف کی حالیہ ڈائگناسٹک رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی،سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثرکر رہی ہے۔

نجی شعبے کی نئی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا،جبکہ 2025 کے آخری چھ ماہ میں برآمدات بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہیں، مجموعی طور پر، ادارہ جاتی نقطہ نظر سے پاکستان کی معاشی آزادی کامنظرنامہ متضاد ہے۔

اگر اصلاحات کی گئیں تو اسکور میں بہتری ممکن ہے،مگر بے روزگاری، غیر رسمی معیشت، عدالتی کمزوریاں اور سرمایہ کاری میں جمودجیسے عوامل بہتری کومحدودکرسکتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم