WE News:
2026-06-02@22:05:07 GMT

چند اٹل فیصلے

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

گزشتہ ہفتے پوری قوم کو چند سوالات درپیش رہے۔ کچھ سوالات کا تعلق حالات سے تھا، کچھ کا خیالات سے اور کچھ کا واقعات سے۔ ان سات دنوں میں ہماری قومی فکر کا خلاصہ سامنے آ گیا۔ ہماری سوچ کے رخ کا تعین ہوا، ہمارے ماضی کی نشاندہی ہوئی، ہمارے حال کی وجہ واضح ہوئی اور مستقبل کا ایک خاکہ بھی ابھر کر سامنے آیا۔ کچھ سوچیں متصادم رہیں، کچھ جذبے ادھورے رہے، کچھ نعرے متروک ہو گئے اور کچھ باتیں ان سنی رہیں۔ یوں یہ ہفتہ منزل، مقصد، راستے اور راہی کی تقسیم میں گزرتا چلا گیا۔

سوالات یہ تھے کہ کیا ہمیں خوشیاں منانے کا حق ہے؟ کیا ہمیں دہشتگردوں سے خوف زدہ ہو کر خوشیاں ترک کر دینی چاہئیں؟ کیا ہمیں مسلسل الم کی کیفیت میں رہنا ہے؟ کیا ہم نے دنیا میں ممتاز ہونا ہے؟ کیا ہم نے احتجاج کرنا ہے؟ کیا ہم نے ہر چیز کو آگ لگانی ہے؟ اپنی حالتِ زار پر کس کو الزام دینا ہے؟ کس کی طرف داری کرنی ہے؟ کس کی تادیب ہونی ہے؟ کون سے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے؟ اور کس مسئلے سے آنکھ چرانی ہے؟

بات بسنت سے شروع ہوئی۔ پچیس برس کے بعد لاہوریوں کو خوش ہونے کا موقع ملا۔ بسنت کے حوالے سے خدشات دم توڑ گئے۔ مریم نواز کو داد دیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ جس تندہی اور محبت کے ساتھ انہوں نے بسنت کی بزم سجائی، اس کی تحسین نہ کرنا بددیانتی ہو گی۔ ہر پہلو پر پہلے سے غور کیا گیا۔ دس لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ لگا دیے گئے۔ پتنگیں اور پنے کیو آر کوڈ سے مزین کر دیے گئے۔ پولیس فورس کو چوکس کر دیا گیا اور فائر بریگیڈ کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔

بسنت نے وہ رونق لگائی جس کا لوگوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا۔ ہر شخص موج میں تھا۔ مدت کے بعد بھنگڑوں والی موسیقی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ایک زمانے کے بعد ڈھول کی تھاپ پر لاہوریوں نے رقص کیا۔ کھابے والوں کی چاندی ہو گئی۔ برقی قمقمے نایاب ہو گئے۔ لاہور دلہن کی طرح سج گیا۔ دنیا بھر سے لوگ بسنت منانے لاہور آنے لگے۔ جماعتوں کے سیاسی اختلافات لاہور کی رونقوں میں دب گئے۔ جشن کا سماں تمام چینلوں پر چھا گیا۔ مدتوں سے مسرتوں کو ترسی قوم کو خوشیوں کے نکاس کا راستہ ملا۔ مریم نواز کی اس کاوش سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ہر دور میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو غم کی طنابیں توڑ کر خوشیوں کے دریچے کھولنا چاہتے ہیں، اثبات کو شعار بناتے ہیں اور نفرتیں مٹاتے ہیں۔

جس وقت لاہور میں جشن کا سماں تھا، اسلام آباد میں بیرونِ ملک سربراہان کی آمد جاری تھی۔ بنیان المرصوص کے بعد دنیا کے سربراہان کی پاکستان آمد اب حیرت کا باعث نہیں رہی۔ اب دنیا پاکستان کو مختلف زاویوں سے دیکھتی ہے۔ اب بھارت کے بجائے پاکستان کو خطے کا طاقتور ترین ملک سمجھا جا رہا ہے۔ اب ہماری پوزیشن مفتوح کی نہیں بلکہ فاتح کی ہو چکی ہے۔ اب دنیا کے ممالک پاکستان کا دورہ کرنا باعثِ شرف سمجھتے ہیں۔ اب ہمارے ساتھ دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں اور ہمارے جہازوں کے آرڈر مل رہے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا خوشیوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔

جس وقت پاکستان میں جشن کی کیفیت تھی اور دنیا کے دو اہم ممالک کے سربراہان پاکستان آ رہے تھے، اسی وقت اسلام آباد کے مضافات میں ترلائی کے مقام پر دہشتگردوں نے ہمیں پھر اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا، درجنوں لوگوں کے پرخچے اڑ گئے اور دو سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

ٹی وی اسکرینوں سے جشن کے مناظر ہٹا لیے گئے۔ گیت گاتے اور رقص کرتے لوگوں کی فوٹیج بند ہو گئی۔ رونقوں کو بیان کرتی ٹرانسمیشنز روک دی گئیں۔ ٹی وی چینلوں پر ماتم کی کیفیت چھا گئی۔ ایمبولینسوں کے سائرن گونجنے لگے۔ سربریدہ لاشوں کے مناظر دکھائے جانے لگے۔ زخمیوں کی تعداد پر گفتگو ہونے لگی۔ شہداء کے مرتبے پر تبصرے ہونے لگے۔ ماتم کرتی عورتوں اور بین کرتے مردوں کے مناظر اسکرینوں پر آ گئے۔ مذہبی رہنما چینلوں پر آ کر بتانے لگے کہ یہ دھماکے کرنے والے مسلمان نہیں۔ خودکش حملہ آور کا ہمیشہ کی طرح شناختی کارڈ مل گیا۔ تفتیش کے محدود دائرے پر بات ہونے لگی اور پولیس کی کم نفری زیرِ بحث آنے لگی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری خوشیوں کی تاک میں ہمیشہ دشمن رہتا ہے، اور ایسا دشمن جس کے ہاتھ میں امریکی اسلحہ، دل میں افغان دہشتگردوں کی محبت اور جیب میں بھارتی فنڈنگ ہے۔

سارے ملک میں جشن کا موسم ماتم میں بدل گیا۔ مریم نواز نے ایک ذمہ دار وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے بسنت کی مصروفیات منسوخ کر دیں۔ لبرٹی چوک میں ہونے والا تاریخی جلسہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ سارے ملک کی فضا سوگوار ہو گئی۔ ادھر آٹھ فروری کو پی ٹی آئی کا ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن احتجاج تھا۔ غم کی اس کیفیت میں بھی کسی نے اس احتجاج کو منسوخ نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے کسی ایک ٹویٹ سے بھی احتجاج ختم کرنے کی صدا بلند نہیں ہوئی۔ کسی نے اس سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی کامیابیوں کو اجتماعی سوچ پر قربان بھی کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ روز پی ٹی آئی کے احتجاج کا دن تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں تھی، بازار کھلے تھے اور ملک بھر میں احتجاج کی کوئی نمایاں کیفیت محسوس نہیں کی گئی۔ لاہوری پھر بسنت میں کھو گئے اور بسنت کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا۔ لوگ دوبارہ زندگی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ حادثے کی یاد ہمیشہ کی طرح دھندلانے لگی اور شہداء کے غم میں بھی کمی آنے لگی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ دہشتگردوں کا کھرا معلوم کر لیا گیا ہے، گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں اور حفاظتی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی کوشش سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر دور میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اپنی ذات اور احتجاج کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سے چند واضح نتائج اخذ ہوتے ہیں۔

ایک یہ کہ جب بھی ہم خوشیاں مناتے ہیں، ہمارے دشمن ان خوشیوں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے جتھے ختم کیے جائیں تو وہ دوسرے علاقوں میں گھس کر بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیسرا یہ کہ اجتماعی مفاد کے بارے میں ہر جماعت نہیں سوچتی۔

چوتھا یہ کہ کٹھور اور تنگ نظر لوگ ایسے مواقع پر بھی اپنے اختلاف اور احتجاج کو ہوا دیتے ہیں۔

پانچواں یہ کہ دنیا جب ہماری عزت میں اضافہ کرتی ہے تو ہمارے اپنے لوگ ہی اس عزت کو نشانہ بناتے ہیں۔

چھٹا یہ کہ المیوں میں گھری اس قوم کو شدت سے خوشیوں کی آرزو ہے۔

اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اب اٹل فیصلہ کرنا ہے کہ دہشتگردی سے ڈرنا نہیں بلکہ اپنی قوت سے انہیں ڈرانا ہے، اور بزورِ بازو اس ملک سے بھگانا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نہیں کی دیا گیا کیا ہم کے بعد

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ