data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے ایک جوڑے نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے ’حویلی‘ نامی عجائب گھر قائم کر رکھا ہے، جہاں ملبوسات اور کشیدہ کاری کی صورت میں پاکستان کی تہذیب کو محفوظ کیا گیا ہے۔میوزیم میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ یہ کوئی سادہ نمائش نہیں۔ یہاں رکھا گیا ہر لباس، ہر دھاگہ اور ہر رنگ ایسی کہانی سناتا ہے، جو لفظوں میں شاید کبھی محفوظ نہ ہو سکتی۔ 80 سے زائد نوادرات اور سو سال سے بھی پرانی پوشاکیں، چترال سے وزیرستان تک پھیلے خطے کا مکمل ثقافتی نقشہ سامنے لے آتی ہیں۔ ان میں وہ نوادرات بھی شامل ہیں جو افغانستان کی سرحدی پٹی اور کوہستان جیسے دور افتادہ علاقوں سے پہلی بار عوام کے سامنے لائے گئے ہیں۔چترال کی وادی کالاش کی خواتین کی ٹوپی، انیسویں صدی کے آخر کی منفرد سوغات ہے، جو استقبال اور خاص تقریبات میں پہنی جاتی ہے۔ہزارہ کے تکیے کے غلاف اپنی گھنی کڑھائی کی بنا پر ایسے لگتے ہیں جیسے کپڑا پس منظر میں کہیں گم ہو گیا ہو۔ نمائش میں رکھی ہر شے اپنی جگہ ایک مکمل داستان ہے، لیکن پشتونوں کی روایتی فراک خاص طور پر دل موہ لینے والی ہے۔ یہ فراک نہ صرف خالص ریشم سے تیار کی جاتی ہے بلکہ اس پر کی گئی نفیس کڑھائی رنگوں کی ہم آہنگی، باریک ٹانکے اور شاندار تہذیبی اظہار اس لباس کو ایک ایسی شناخت دیتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ محسوس ہوتی ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والے 35ویں آل پاکستان نیشنل گیمز میں ام البنین ناصری نے فنسنگ کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار میڈل اپنے نام کیے، جن میں ایک گولڈ، ایک سلور اور دو برانز میڈل شامل ہیں۔ام البنین ناصری روزانہ کی بنیاد پر کوئٹہ کے وسط میں قائم ایوب سٹیڈیم میں موجود فنسنگ اکیڈیمی میں تین گھنٹے پریکٹس کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن ماہین زہرہ بھی فنسنگ سیکھنے کے لیے اکیڈیمی آتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ سفر اب ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک مثال بنتا جا رہا ہے۔نیشنل گیمز میں بلوچستان سے 500 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی، تاہم میڈلز اور تمغے جیتنے میں سب سے نمایاں نام ام البنین ناصری کا رہا، جنہوں نے ثابت کیا کہ اگر حوصلہ، گھر والوں کا اعتماد اور مسلسل محنت ساتھ ہو تو بلوچستان کی بیٹیاں بھی قومی سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کے 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے آغاز پر شاہین نے پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی اوپنر الیکس کیری کو بولڈ کر کے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی اب پاکستان کے صرف تیسرے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں حریف ٹیم کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس انجام دے چکے ہیں۔
A unique feat for Pakistan captain @iShaheenAfridi today ????
➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.co/5mBlUcoG8g
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS | #TakraarKaTime | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/lh6zWbjS25
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026
وسیم اکرم نے سنہ 1993 میں کراچی میں زمبابوے کے خلاف اینڈی فلاور کو پہلی گیند پر آؤٹ کیا تھا جبکہ وقار یونس نے 2001 میں لیڈز میں انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک کو ابتدائی گیند پر پویلین بھیجا تھا۔
پہلی گیند پر وکٹ لینے والے پاکستانی کپتان
وسیم اکرم: سنہ 1993 بمقابلہ زمبابوے (کراچی)
وقار یونس: سنہ 2001 بمقابلہ انگلینڈ (لیڈز)
شاہین شاہ آفریدی: سنہ 2026 بمقابلہ آسٹریلیا (لاہور)
شاہین آفریدی نے صرف ابتدائی وکٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے مزید 2 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 47ویں اوور میں میتھیو کوہنیمن اور 49ویں اوور میں نیتھن ایلس کی وکٹ حاصل کی اور 8 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
مزید پڑھیے: شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
شاہین کے علاوہ حارث رؤف، ابرار احمد اور عرفات منہاس نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا جس کے باعث آسٹریلوی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز تک محدود رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں