ہیلتھ کیئر نظام کو تارکین وطن کی تلاش
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح جرمنی کو لیبر شارٹیج کا سامنا ہے۔ محققین اس رجحان کو بیان کرنے کے لیے ایک نئی اصطلاح متعارف کرائی ہے، جسے بین الاقوامی مائیگریشن انڈسٹری کا نام دیا گیا ہے۔ تو کیا جرمنی تارکین وطن ورکز کے لیے پرکشش بھی ہے؟ گزشتہ چند برسوں کے دوران جرمنی میں معمر افراد اور مریضوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں کام کرنے کے لیے تین لاکھ سے زیادہ افراد اپنے آبائی وطن چھوڑ کر یہاں آ چکے ہیں۔ یہ رجحان بظاہر جرمنی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اُن نرسوں اور ہیلتھ ورکرز کے لیے بھی اتنا ہی سودمند ہے جنہوں نے اپنے وطن، خاندان اور ثقافت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟جرمن فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی کے مطابق، نرسنگ ہومز میں تمام نرسنگ اسٹاف میں سے تقریباً ایک تہائی غیر ملکی شہری ہیں۔ اگر پورے ہیلتھ کیئر سیکٹر کو دیکھا جائے تو ہر پانچ میں سے ایک شخص بیرونِ ملک سے آیا ہے۔ یہ رجحان بڑھ رہا ہے، مگر خطرہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ملازمین اب ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، جو باقی رہ جائیں گے، ان پر اضافی کام کا بوجھ بڑھنے سے وہ پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے نرسنگ کی جاب کو پرکشش کیسے بنایا جائے۔ انہوں نے اس پر ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے لیے انہوں نے نرسوں، ہسپتالوں کے مینیجرز، نگہداشت کے مراکز کے منتظمین، لینگوئج اسکولوں اور ایجنسیوں کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان افراد کے لیے اس شعبے کو ایک خوش آئند اور طویل المدتی کیسے بنایا جائے۔برلن خوبصورت ہے، ہائیڈلبرگ رومانوی ہے، یہ وہ وعدے ہیں جو رنگین بروشرز پر درج کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت اکثر اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ کئی نرسیں جرمنی کے دیہی علاقوں میں پہنچتی ہیں جہاں زندگی بروشر میں دکھائے گئے خوابوں کے برعکس ہوتی ہے۔ کچھ کو مناسب رہائش نہیں ملتی، کچھ کو جرمن زبان سیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔