افغانستان انتہا پسندی کا گڑھ بن گیا،معاشی بحران عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
طالبان کی پالیسیاں جاری رہیں توخطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے
طالبان حکومت غیر مستحکم بنیادوں پر قائم ہیعالمی محققین اور تجزیہ کاروں کا سخت انتباہ
عالمی محققین اور تجزیہ کاروں نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔مختلف بین الاقوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف ناقابلِ اعتماد ہے بلکہ اس کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں۔افغان جریدے افغان انٹرنیشنل کے مطابق عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ طالبان حکومت غیر مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور اس کا اقتدار وقتی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔سینئر روسی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی حکمرانی کا انداز غیر پائیدار ہے، جس کے باعث افغانستان میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیاں داخلی عدم استحکام کی عکاس ہیں۔سینٹر فار کنٹیمپریری ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر رجب سفاروف نے کہا ہے کہ طالبان کا خراب سیاسی طرزِ عمل زیادہ عرصے تک اقتدار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے گا۔ ان کے مطابق طالبان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہیں جہاں انتہا پسندانہ اقدامات کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔روسی محقق آندرے سرینکو کا کہنا ہے کہ طالبان کی سوچ اور طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو افغانستان پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: طالبان حکومت ہے کہ طالبان تجزیہ کاروں طالبان کی کے مطابق
پڑھیں:
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی
منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔
مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔
مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد