اقوامِ متحدہ غیر جانبدار رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں بلکہ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر انحصار کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی شہری جانی نقصان کا سبب بنا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے افغانستان کے یکطرفہ اور غیر مصدقہ الزامات پر مبنی یو این رپورٹ مسترد کردی
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا۔ دہشتگرد تربیتی مراکز اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کے شواہد پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان نے UNAMA رپورٹ میں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغانستان طالبان کے زیرِ انتظام دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ترلائی حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہونے کا انکشاف، سرحد پار متعدد سفر بھی کیے
پاکستان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں شہری نقصان کی اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشتگردوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دیتے اور انہیں آپریشنل سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائیوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدار، قابلِ تصدیق اور متوازن رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
UNAMA افغانستان اقوام متحدہ دہشتگردی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان اقوام متحدہ دہشتگردی افغانستان میں پاکستان نے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔