جاپان: قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں حکمران اتحاد نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو: جاپان میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں حکمران اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے واضح کامیابی سمیٹ لی ہے۔
اتوار کو جاپانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 465 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔
انتخابات میں جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی قیادت میں قدامت پسند حکمران اتحاد نے اکثریتی نشستیں حاصل کیں۔
جاپانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد نے 323 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
اس کامیابی کے بعد سانائے تاکائیچی کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں، جبکہ مضبوط اکثریت کے باعث حکومت کو قانون سازی میں بھی نمایاں سہولت حاصل ہو گی۔
واضح رہے کہ 64 سالہ سانائے تاکائیچی اکتوبر میں حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم بنی تھیں۔
وزیراعظم تاکائیچی نے مہنگائی میں کمی کے لیے سیلز ٹیکس میں 8 فیصد کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے وعدے کر رکھے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکمران اتحاد نے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان