دولت سے کون سی چیز نہیں خریدی جاسکتی؟ دنیا کے امیر ترین شخص کا چونکا دینے والا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کا کہنا ہے کہ دولت خوشی نہیں خرید سکتی، اور یہ حقیقت وہ لوگ بہتر طور پر سمجھتے ہیں جنہوں نے یہ بات کہی۔
ایلون مسک، جو ٹیسلا، اسپیس ایکس اور دیگر بڑی کمپنیوں کے مالک ہیں، نے یہ بات حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔
ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ جملہ بالکل درست ہے کہ دولت سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی، اور جس شخص نے یہ کہا وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جس پر صارفین نے مختلف انداز میں ردعمل دیا۔
کئی صارفین نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگر دولت خوشی نہیں خرید سکتی تو ایلون مسک انہیں 10 لاکھ ڈالر بھیج کر اس بات کو سمجھنے کا موقع دیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ فلسفیانہ باتیں کرنا اس وقت آسان ہو جاتا ہے جب کرایہ اور بل ادا ہو چکے ہوں۔
کچھ افراد نے کہا کہ اگرچہ دولت خوشی کی مکمل ضمانت نہیں، لیکن اس کی کمی انسان کی زندگی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ بعض صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حقیقی خوشی دوسروں کی مدد میں ہے، اور ایلون مسک کے پاس اربوں افراد کی زندگی بہتر بنانے کا موقع موجود ہے۔
یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایلون مسک کی دولت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ فوربز کے مطابق حالیہ دنوں میں وہ دنیا کے پہلے شخص بنے تھے جن کی مجموعی دولت 800 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔