سپریم کورٹ: بانئ پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
---فائل فوٹوز
سپریم کورٹ نے بانئ پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کی بانی سے ملاقات کی استدعا پر حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے، ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے اعتراض کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی، ماہرین نے اسپتال میں فالو اَپ علاج کی سفارش کی، بانی پی ٹی آئی کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات پمز منتقل کیا گیا، علاج ان کی رضا مندی سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ذہن میں رکھیں آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، ہمارے خیال میں یہ کیس غیر مؤثر ہو چکا ہے، 24 اگست 2023ء کا حکم نامہ تھا جس کے خلاف کیس آیا تھا۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ بغیر نوٹس جاری کیے ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر نہیں دے سکتے، یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس غیر مؤثر ہو چکا یا ابھی چلایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے القادر ٹرسٹ میں بانئ پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔