سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی جب کہ سماعت کےد وران سائفر کیس میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے بانی تحریک انصاف سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے بانی تحریک انصاف سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست پر عدالت نے حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر نوٹس ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے ۔ ملاقات سے متعلق کوئی بھی آرڈر جاری کرنے سے قبل دوسرے فریق کو نوٹس دینا ضروری ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے اعتراض کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ کے مقدمات دوسری عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمارے خیال میں یہ کیس غیر موثر ہو چکا ہے ۔ 24 اگست 2023 کا حکمنامہ تھا جس کے خلاف یہ کیس آیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس غیر موثر ہو چکا ہے یا ابھی چلایا جا سکتا ہے۔
دورانِ سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مجھے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ملاقات سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے، تاہم دوسرے فریق کو نوٹس کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
اسی دوران سپریم کورٹ نے بانی تحریک انصاف کے سائفر کیس میں بریت کے خلاف اپیلوں پر 3 رکنی بینچ بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے خلاف بھی 3 رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا۔ مزید برآں القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف کی ضمانت کی درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کر دی گئی۔
عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کردی۔ علاوہ ازیں توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں بھی غیر مؤثر ہونے پر خارج کردی گئیں۔
دوران سماعت عدالت نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر 3 رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا جب کہ عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔
مقدمات کی سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردہشت گردوں سے روابط کا کیس؛ پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد دہشت گردوں سے روابط کا کیس؛ پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد بی سی بی صدر اور آئی سی سی وفد کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک بھارت میچ پر تفصیلی گفتگو پاکستان کے خلاف ہر سازش میں ملک کے ساتھ کھڑے ہیں،بیرسٹر گوہر عمر ایوب اور شبلی فراز نے الیکشن دھاندلی کیخلاف احتجاج نہ کرنے کی ڈیل کی، فواد چوہدری کا دعویٰ رومانیہ کے پاکستان میں سفیر بھی بسنت کے مداح نکلے، بسنت منانے کی تصاویر شیئر کردیں جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، مولانا فضل الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سے فوری ملاقات کی سائفر کیس میں کی درخواست
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔