سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی۔
عدالت میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل رہنما لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹس جاری کیے اس نوعیت کا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا اور یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ متعلقہ مقدمات دیگر عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ عدالت قواعد و ضوابط کے تحت ہی آگے بڑھ سکتی ہے اور نوٹس کے بغیر ملاقات سے متعلق کوئی آرڈر ممکن نہیں۔ عدالت نے اس بنیاد پر پی ٹی آئی وکلا کی فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیا، جس کے بعد اس معاملے میں بھی بانی پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف نہ مل سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات کی پی ٹی آئی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔