data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ مقابلے کے حوالے سے صورتحال ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کو میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے، تاہم اس معاملے میں آخری اور حتمی فیصلہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور آئی سی سی کے درمیان ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد یہ طے پایا ہے کہ پاک بھارت میچ سے متعلق تمام تر حتمی اختیارات حکومت پاکستان کے پاس ہوں گے، پی سی بی نے وزیراعظم سے رہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد  اگلے 24 گھنٹے میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اطلاعات ہیں کہ اگر پاکستان کی شرائط تسلیم کر لی گئیں تو ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اتر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب لاہور میں ہونے والے چار گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران فریقین کے مؤقف میں خاصی قربت آئی، جبکہ بات چیت کا دوسرا دور بھی رات گئے تک جاری رہا، جس میں معاملات کو مثبت سمت میں لے جانے پر زور دیا گیا۔

پی سی بی حکام نے آئی سی سی وفد کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس حساس معاملے پر آخری فیصلہ حکومت پاکستان ہی کرے گی۔ آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کا مؤقف آئی سی سی بورڈ کے سامنے پوری قوت سے رکھیں گے۔ مذاکرات میں امارات کرکٹ بورڈ کے نمائندے مبشر عثمانی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

سری لنکن اور متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈز نے بھی پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، جبکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام خصوصی طور پر لاہور پہنچے اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو چیئرمین پی سی بی پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست ملاقات کر کے صورتحال پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی وفد کے سامنے اپنی سالانہ آمدنی میں اضافے سمیت چند اہم مالی اور انتظامی شرائط رکھ دی ہیں، جن پر عمل درآمد کی صورت میں ہی میچ کھیلنے پر غور کیا جائے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی وفد کو مدعو نہیں کیا تھا بلکہ وفد نے خود لاہور آ کر مذاکرات کا فیصلہ کیا۔

اس تمام تر صورتحال کے دوران آئی سی سی نے بھارتی بورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے اور اسے کھیل کی روح کے منافی رویوں سے اجتناب برتنے، خصوصاً ہینڈ شیک جیسے حساس معاملات کو غیر ضروری طور پر اچھالنے سے گریز کی تلقین کی ہے۔ پاکستان کو میچ پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز اور آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ادھر حکومت پاکستان کولمبو میں ہونے والے میچ میں بنگلا دیش کی حمایت میں پہلے ہی شرکت سے انکار کر چکی ہے، جس کے بعد اس معاملے نے مزید پیچیدگی اختیار کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق قذافی اسٹیڈیم میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے مصالحتی وفد کا خیر مقدم کیا، جہاں پاک بھارت میچ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ آئی سی سی نے وائس چیئرمین عمران خواجہ کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اس حساس معاملے پر پل کا کردار ادا کریں اور کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی راہ ہموار کریں۔

موجودہ حالات میں نگاہیں وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جن کی منظوری کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شائقین کو پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کو ملے گا یا نہیں۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی واضح ہدایات پر پی سی بی نے 15 فروری کو ابتدائی طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر احتجاجاً کیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور آئی سی سی نے فوری طور پر مصالحتی کوششوں کا آغاز کر دیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 4 جنوری کو بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حکومت پاکستان اس معاملے کرکٹ بورڈ پی سی بی کے بعد

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم