پاکستان کچھ شرائط کیساتھ ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ کھیل سکتاہے: ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ مقابلے کے حوالے سے صورتحال ایک بار پھر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کو میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے، تاہم اس معاملے میں آخری اور حتمی فیصلہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور آئی سی سی کے درمیان ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد یہ طے پایا ہے کہ پاک بھارت میچ سے متعلق تمام تر حتمی اختیارات حکومت پاکستان کے پاس ہوں گے، پی سی بی نے وزیراعظم سے رہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اگلے 24 گھنٹے میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اطلاعات ہیں کہ اگر پاکستان کی شرائط تسلیم کر لی گئیں تو ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اتر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب لاہور میں ہونے والے چار گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران فریقین کے مؤقف میں خاصی قربت آئی، جبکہ بات چیت کا دوسرا دور بھی رات گئے تک جاری رہا، جس میں معاملات کو مثبت سمت میں لے جانے پر زور دیا گیا۔
پی سی بی حکام نے آئی سی سی وفد کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس حساس معاملے پر آخری فیصلہ حکومت پاکستان ہی کرے گی۔ آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کا مؤقف آئی سی سی بورڈ کے سامنے پوری قوت سے رکھیں گے۔ مذاکرات میں امارات کرکٹ بورڈ کے نمائندے مبشر عثمانی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
سری لنکن اور متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈز نے بھی پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، جبکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام خصوصی طور پر لاہور پہنچے اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو چیئرمین پی سی بی پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست ملاقات کر کے صورتحال پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی وفد کے سامنے اپنی سالانہ آمدنی میں اضافے سمیت چند اہم مالی اور انتظامی شرائط رکھ دی ہیں، جن پر عمل درآمد کی صورت میں ہی میچ کھیلنے پر غور کیا جائے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی وفد کو مدعو نہیں کیا تھا بلکہ وفد نے خود لاہور آ کر مذاکرات کا فیصلہ کیا۔
اس تمام تر صورتحال کے دوران آئی سی سی نے بھارتی بورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے اور اسے کھیل کی روح کے منافی رویوں سے اجتناب برتنے، خصوصاً ہینڈ شیک جیسے حساس معاملات کو غیر ضروری طور پر اچھالنے سے گریز کی تلقین کی ہے۔ پاکستان کو میچ پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز اور آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر حکومت پاکستان کولمبو میں ہونے والے میچ میں بنگلا دیش کی حمایت میں پہلے ہی شرکت سے انکار کر چکی ہے، جس کے بعد اس معاملے نے مزید پیچیدگی اختیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق قذافی اسٹیڈیم میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے مصالحتی وفد کا خیر مقدم کیا، جہاں پاک بھارت میچ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ آئی سی سی نے وائس چیئرمین عمران خواجہ کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اس حساس معاملے پر پل کا کردار ادا کریں اور کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی راہ ہموار کریں۔
موجودہ حالات میں نگاہیں وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جن کی منظوری کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شائقین کو پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کو ملے گا یا نہیں۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی واضح ہدایات پر پی سی بی نے 15 فروری کو ابتدائی طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر احتجاجاً کیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور آئی سی سی نے فوری طور پر مصالحتی کوششوں کا آغاز کر دیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے 4 جنوری کو بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہیں بھیجے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکومت پاکستان اس معاملے کرکٹ بورڈ پی سی بی کے بعد
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔