سعودی عرب: سائبر سیکورٹی اور دیگر اے آئی کے شعبوں میں پاکستانی پروفیشنلز ترجیح بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب کے تیزی سے ترقی کرتے ٹیکنالوجی سیکٹر نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے نئے اور وسیع مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
ویژن 2030 کے تحت جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مملکت میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں اعلیٰ مہارت یافتہ افراد کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان ایک اہم افرادی قوت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایسی موزوں پوزیشن میں ہے جہاں وہ اپنی ہنر مند آئی ٹی افرادی قوت کو سعودی عرب کی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں متعارف کرا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی افرادی قوت پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم آئی ٹی اور سائبر سیکورٹی ماہر تیمور بٹ کے مطابق ویژن 2030 کے منصوبوں کے تحت مملکت میں ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دنیا بھر سے خصوصاً پاکستان جیسے مسلم ممالک سے ماہرین کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کے منصوبوں میں پاکستانی سائبر سیکورٹی ماہرین کو خاص ترجیح دی جا سکتی ہے۔
آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ کے مطابق کئی پاکستانی آئی ٹی اور فن ٹیک کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے ذیلی دفاتر قائم کر چکی ہیں اور مقامی سطح پر عملے کو منتقل کر رہی ہیں۔ مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور بڑی پاکستانی کمیونٹی کی موجودگی نے سعودی عرب کو پاکستانی پروفیشنلز کے لیے ایک پرکشش منزل بنا دیا ہے۔
اُدھر وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی آئندہ برسوں میں سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اپنے تعلیمی نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا اور آئی ٹی جامعات و صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سائبر سیکورٹی میں پاکستانی کے مطابق آئی ٹی کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔