انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ نائب صدر و ممبر آرگنائزنگ کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ آزاد جموں و کشمیر سیدہ شگفتہ نورین کاظمی نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیھا پر خودکش حملے کی مذمت کی ہے اور اس حملے میں معصوم اور نہتے نمازیوں کی شہادت پر افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں سیدہ شگفتہ نورین کاظمی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب اور قوم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ اسلام اور کوئی دوسرا مذہب اور کوئی بھی مہذب قوم کسی کو بھی انسانیت سوز پر تشدد حملوں اور دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتی۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد خدیجة الکبریٰ کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اقدام ہے، خاص طور پر مسجد میں نہتے نمازیوں پر سفاکانہ حملہ کرنا کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں بلکہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نا ہوں۔ انہوں نے اس واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انھوں نے دعا کی رب کریم اس خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا