دہشت گردوں کا کسی مذہب اور قوم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، شگفتہ نورین کاظمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نا ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ نائب صدر و ممبر آرگنائزنگ کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ آزاد جموں و کشمیر سیدہ شگفتہ نورین کاظمی نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیھا پر خودکش حملے کی مذمت کی ہے اور اس حملے میں معصوم اور نہتے نمازیوں کی شہادت پر افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں سیدہ شگفتہ نورین کاظمی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب اور قوم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ اسلام اور کوئی دوسرا مذہب اور کوئی بھی مہذب قوم کسی کو بھی انسانیت سوز پر تشدد حملوں اور دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتی۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد خدیجة الکبریٰ کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اقدام ہے، خاص طور پر مسجد میں نہتے نمازیوں پر سفاکانہ حملہ کرنا کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں بلکہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نا ہوں۔ انہوں نے اس واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انھوں نے دعا کی رب کریم اس خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔