کوٹ چھٹہ، مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام سانحہ ترلائی کے خلاف احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سید انعام حیدر زیدی، سید اظہر حسین کاظمی، مولانا مظہر حسین جعفری نے کہا کہ اسلام آباد واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، افسوسناک سانحے پر حکومتی رویہ قابل مذمت ہے، شہداء کے جنازوں کو تقسیم کیا گیا تاکہ اجتماعی نماز جنازہ ادا نہ اور نہ ہی حکومت کا پول کھولا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ غازیخان تحصیل کوٹ چھٹہ کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد مسجد خدیجة الکبریٰ میں دوران نماز ہونے والے خودکش حملے کے خلاف کلمہ چوک سے مین چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب سید انعام حیدر زیدی، ضلعی صدر ڈیرہ غازیخان سید اظہر حسین کاظمی، تحصیل صدر کوٹ چھٹہ مولانا مظہر حسین جعفری، محبوب حسین ببر، ماسٹر بلال حسین برمانی، صفدر حسین پاشا اور فیض کریم نے کی۔ احتجاجی ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردی کے خلاف نعرے درج تھے۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب سید انعام حیدر زیدی، ضلعی صدر ڈیرہ غازیخان سید اظہر حسین کاظمی، تحصیل صدر کوٹ چھٹہ مولانا مظہر حسین جعفری نے کہا کہ اسلام آباد واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، افسوسناک سانحے پر حکومتی رویہ قابل مذمت ہے، شہداء کے جنازوں کو تقسیم کیا گیا تاکہ اجتماعی نماز جنازہ ادا نہ اور نہ ہی حکومت کا پول کھولا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔