ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سید انعام حیدر زیدی، سید اظہر حسین کاظمی، مولانا مظہر حسین جعفری نے کہا کہ اسلام آباد واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، افسوسناک سانحے پر حکومتی رویہ قابل مذمت ہے، شہداء کے جنازوں کو تقسیم کیا گیا تاکہ اجتماعی نماز جنازہ ادا نہ اور نہ ہی حکومت کا پول کھولا جائے۔  اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ڈیرہ غازیخان تحصیل کوٹ چھٹہ کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد مسجد خدیجة الکبریٰ میں دوران نماز ہونے والے خودکش حملے کے خلاف کلمہ چوک سے مین چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب سید انعام حیدر زیدی، ضلعی صدر ڈیرہ غازیخان سید اظہر حسین کاظمی، تحصیل صدر کوٹ چھٹہ مولانا مظہر حسین جعفری، محبوب حسین ببر، ماسٹر بلال حسین برمانی، صفدر حسین پاشا اور فیض کریم نے کی۔ احتجاجی ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردی کے خلاف نعرے درج تھے۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب سید انعام حیدر زیدی، ضلعی صدر ڈیرہ غازیخان سید اظہر حسین کاظمی، تحصیل صدر کوٹ چھٹہ مولانا مظہر حسین جعفری نے کہا کہ اسلام آباد واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، افسوسناک سانحے پر حکومتی رویہ قابل مذمت ہے، شہداء کے جنازوں کو تقسیم کیا گیا تاکہ اجتماعی نماز جنازہ ادا نہ اور نہ ہی حکومت کا پول کھولا جائے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل