data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ معیاری اور پُرسکون نیند کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند نہ صرف جسمانی تھکن دور کرتی ہے بلکہ ذہنی صلاحیت، جذباتی توازن اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اگر نیند کا دورانیہ یا سونے کا انداز درست نہ ہو تو یہی نیند مختلف جسمانی مسائل، خصوصاً کمر درد کا سبب بن سکتی ہے۔

طبی رپورٹس کے مطابق نیند کے دوران جسم کی پوزیشن ریڑھ کی ہڈی، گردن اور پٹھوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط انداز میں سونا وقت کے ساتھ ساتھ کمر کے دائمی درد، گردن کی اکڑن اور اعصابی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

پیٹ کے بل سونے کو سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے گردن غیر فطری زاویے پر مڑ جاتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کمر کے بل سونا سب سے محفوظ اور متوازن پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔ اس انداز میں جسم کا وزن یکساں طور پر تقسیم ہو جاتا ہے، جس سے دباؤ کم پڑتا ہے۔ اگر گھٹنوں کے نیچے ہلکا سا تکیہ رکھ لیا جائے تو ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر کو بہتر سہارا ملتا ہے، جو درد میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

اسی طرح کروٹ لے کر سونا بھی مفید تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پہلے سے کمر کے مسائل کا شکار ہوں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کروٹ کے دوران گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھا جائے تاکہ کولہوں اور کمر کے نچلے حصے پر دباؤ کم ہو اور جسم سیدھی حالت میں رہے۔

بعض ماہرین ٹانگوں کو ہلکا سا موڑ کر سونے کو بھی فائدہ مند قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سے مہروں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رہتا ہے۔

کمر درد سے بچاؤ کے لیے صرف پوزیشن ہی نہیں بلکہ درست گدے اور تکیے کا انتخاب بھی بے حد ضروری ہے۔ درمیانی سختی والا گدا ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جب کہ نامناسب یا پرانا گدا مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح تکیہ ایسا ہونا چاہیے جو گردن کو غیر فطری زاویے پر نہ لے جائے۔

ماہرین نیند کے معمولات کو بھی اہم قرار دیتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسمانی گھڑی کو متوازن رکھتا ہے۔ سونے سے پہلے موبائل فون اور اسکرین کا کم استعمال، ہلکی پھلکی اسٹریچنگ اور ذہنی سکون کی سرگرمیاں بہتر نیند کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔

ان عادات کو اپنانے سے نہ صرف نیند بہتر ہوتی ہے بلکہ کمر درد جیسے مسائل سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریڑھ کی ہڈی سکتا ہے کے لیے کمر کے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ