جوا پروموشن کیس، ڈکی بھائی، اہلیہ اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
یوٹیوبر ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ----فائل فوٹو
لاہور کی مقامی عدالت نے یوٹیوبر ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔
ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی سمیت دیگر کے خلاف جوئے کی پرموشن کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان پیش ہوئے۔
عدالت میں سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی سمیت دیگر ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔
حال ہی میں جوئے کی ایپ کی تشہیر کے کیس میں بھاری رقم کے عوض ضمانت پر رہائی پانے والے پاکستان کے معروف یوٹیوبر نے 100 دنوں کی قید کے دوران پیش آئے حالات و واقعات سے پردہ اُٹھا دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے مقدمے کے گواہوں کو 23 فروری کو طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے ڈکی بھائی سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں ملزمان پر آن لائن جوا ویب سائٹس کی تشہیر کا الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی سمیت دیگر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔