موسمیاتی تبدیلی، پاکستان کا اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے، وزیر خزانہ کا چوتھی کلائمٹ کانفرنس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
او آئی سی سی کے تحت پاکستان میں چوتھی کلائمٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کلائمٹ دنیا کےساتھ اب پاکستان کا بھی اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑے نوعیت کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے چوتھی کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2022 کے سیلاب نے بتایا کہ پاکستان بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کررہا ہے۔ یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہےکہ ہم سب ملکر کلائمیٹ چینج کے روک تھام سے متعلق کام کریں۔
انہوں نے بتیا کہ حکومت بھی اس حوالے سے اقدامات بروئے کار لارہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد اس حوالے سےآگاہی اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ہم نے یہاں توانائی، مالیات اور ماحولیات سے متعلق ماہرین کو مدعو کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس آئی ایم ایف کا 1.
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے ٹھوس آئیڈیاز کے ذریعے ہم موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔ بینک ایبل پراجیکٹ لے کر آئیں فنڈنگ موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کلائمٹ چینج کی مد میں عالمی بینک کے ساتھ 3ارب ڈالر کے 10سالہ پروگرام میں شامل ہیں۔ اسی نوعیت کی سہولیات ایشین ڈیولپمنٹ بینک ودیگر عالمی اداروں کی بھی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔