او آئی سی سی کے تحت پاکستان میں چوتھی کلائمٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کلائمٹ دنیا کےساتھ اب پاکستان کا بھی اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑے نوعیت کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے چوتھی کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2022 کے سیلاب نے بتایا کہ پاکستان بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کررہا ہے۔ یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہےکہ ہم سب ملکر کلائمیٹ چینج کے روک تھام سے متعلق کام کریں۔

انہوں نے بتیا کہ حکومت بھی اس حوالے سے اقدامات بروئے کار لارہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد اس حوالے سےآگاہی اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ہم نے یہاں توانائی، مالیات اور ماحولیات سے متعلق ماہرین کو مدعو کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس آئی ایم ایف کا 1.

3 ارب ڈالر کا کلائمیٹ فنڈ ہے۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کلائمیٹ فیسیلیٹی بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے ٹھوس آئیڈیاز کے ذریعے ہم موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔ بینک ایبل پراجیکٹ لے کر آئیں فنڈنگ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کلائمٹ چینج کی مد میں عالمی بینک کے ساتھ 3ارب ڈالر کے 10سالہ پروگرام میں شامل ہیں۔ اسی نوعیت کی سہولیات ایشین ڈیولپمنٹ بینک ودیگر عالمی اداروں کی بھی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ