ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام، روحانی پیشوا کے دفتر کی دوٹوک وضاحت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ دلائی لامہ کی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چینی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام شامل ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ ایپسٹین کیس سے متعلق تین ملین سے زائد دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان فائلز میں دلائی لامہ کا نام 150 سے زائد مرتبہ آیا ہے، تاہم کہیں بھی ان کی ایپسٹین سے ملاقات یا رابطے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
دلائی لامہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس دلائی لامہ کو ایپسٹین سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو سراسر غلط ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دلائی لامہ نے نہ کبھی جیفری ایپسٹین سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی کو ان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی اجازت دی۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں ایک ای میل کا ذکر ہے جس میں ایک نامعلوم شخص نے کسی تقریب میں دلائی لامہ کو دیکھنے کی بات کی تھی۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق اس ای میل میں بھی دلائی لامہ اور ایپسٹین کی براہِ راست ملاقات کا کوئی ذکر نہیں۔
واضح رہے کہ ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 2019 میں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہو گیا تھا۔
حالیہ فائلز کے اجرا کے بعد کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم صرف نام کا ذکر کسی بھی فرد کے خلاف الزام یا جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں دلائی لامہ ایپسٹین سے فائلز میں
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔