وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے کی جبکہ اجلاس میں اسلام آباد ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں اسلام آباد شہر میں ڈویژنل سطح پر سیکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنا کر پورے شہر کو محفوظ بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیف کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر سات یوم میں دارالحکومت اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

آئی جی اسلام آباد نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا جبکہ شہر میں آمد و رفت اور نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے کیلئے جدید میکنزم تیار کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کیلئے کیے گئے انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال اور عزت کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد پولیس دن رات مصروف عمل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپلومیٹک انکلیو، ریڈ زون سمیت شہر بھر کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد سیف سٹی کو عصر حاضر کے تقاضوں اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر کی مرکزی شاہراہوں، مراکز اور سیکٹرز کی نگرانی کا مؤثر میکنزم بنایا گیا ہے، دہشتگردی کی روک تھام اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بروقت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں اور اسلام آباد کو کرائم فری سٹی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد پر کڑی نظر رکھنے اور ان کی مکمل تفصیلات کا ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں ڈور ٹو ڈور سروے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں کا ڈور ٹو ڈور سروے جلد مکمل کیا جائے گا۔

چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت دی کہ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کی خصوصی نگرانی کے ساتھ شہر بھر میں پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط اور مؤثر کوآرڈینیشن بڑھائی جائے گی اور وفاقی دارالحکومت میں ہر قیمت پر شہریوں کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل اور ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں اسلام آباد بنانے کیلئے کیا جائے گا چیف کمشنر اجلاس میں کیا گیا کو مزید

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے