سمندر میں جہاز سے جہاز تیل منتقلی کا انکشاف، اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں تیل اسمگلنگ کے ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لے لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 بحری میل مغرب میں کی گئی، جہاں مشتبہ جہازوں کو روک کر قانونی کارروائی کے لیے بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام، ڈیٹا پیٹرن تجزیے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ان جہازوں کی نشاندہی کی گئی۔ بیان کے مطابق یہ نیٹ ورک بین الاقوامی پانیوں میں جہاز سے جہاز تیل کی منتقلی کے ذریعے سرگرم تھا اور اس طریقے سے ساحلی ممالک کو واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز سے بچایا جا رہا تھا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش، الیکٹرانک ڈیٹا کی جانچ اور عملے سے پوچھ گچھ کے بعد اس نیٹ ورک کے طریقۂ کار اور اس کے ممکنہ عالمی روابط کا سراغ لگایا گیا ہے، تاہم سرکاری بیان میں ایران، جہازوں کی ملکیت یا کسی مخصوص پابندی کی خلاف ورزی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ٹینکر ٹریکنگ فرم ٹینکر ٹریکرس اور ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضبط کیے گئے تینوں جہاز ایران سے منسلک ہیں اور یہ پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان جہازوں کے نام اے ایل جافزیا، اسفالٹ اسٹار اور اسٹیellar روبی بتائے جا رہے ہیں، جن میں سے ایک جہاز ایرانی پرچم کے تحت کام کر رہا تھا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان ٹینکرز کو تیل اسمگلنگ کے الزام میں روکا گیا ہے اور یہ ماضی میں بار بار اپنی شناخت تبدیل کرتے رہے ہیں تاکہ نگرانی سے بچا جا سکے۔ بھارتی حکام نے اس کارروائی کو سمندری سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے بھارت کے عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔
تاحال اس معاملے پر بھارتی یا ایرانی حکام کی جانب سے ایران سے تعلق کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی نیٹ ورک گیا ہے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔