جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
ٹوکیو(آئی پی ایس) جاپان کی وزیرِاعظم اور حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سربراہ سانیے تاکائیچی نے عام انتخابات میں شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تاکائیچی کے اتحاد نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں واضح برتری حاصل کرتے ہوئے حکومت کو مضبوط مینڈیٹ دلوا دیا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اکیلے ہی 233 نشستوں کی سادہ اکثریت عبور کر لی، جبکہ اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ اس کامیابی کے بعد وزیرِاعظم تاکائیچی کو قانون سازی میں غیر معمولی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔
سانیے تاکائیچی، جو جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم ہیں، نے یہ انتخابات گزشتہ سال پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بلائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے معاشی اصلاحات، ٹیکس میں کمی اور قومی سلامتی کے مضبوط مؤقف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انتخابات سخت سرد موسم میں ہوئے، جہاں کئی علاقوں میں شدید برفباری کے باوجود ووٹرز نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ یہ جاپان کی تاریخ میں فروری کے مہینے میں ہونے والے چند نایاب انتخابات میں سے ایک تھا۔
سانیے تاکائیچی کی پالیسیوں میں خوراک پر سیلز ٹیکس معطل کرنے، دفاعی اخراجات میں اضافے اور چین کے مقابل سخت سیکیورٹی مؤقف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم ان معاشی وعدوں پر مالیاتی منڈیوں میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ ٹیکس میں کمی کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں تاکائیچی کی کھل کر حمایت کی تھی اور انہیں اگلے ماہ وائٹ ہاؤس مدعو کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ چین کی جانب سے ان کی کامیابی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس مضبوط مینڈیٹ کے بعد وزیرِاعظم سانیے تاکائیچی جاپان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں تیز رفتار فیصلے کر سکتی ہیں، جس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسات دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنر سات دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنر پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت، وکلاء اور صحافیوں کے سخت دلائل ہتکِ عزت کیس؛ شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست پر 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم چین ، جمی لائی کو تین مقدمات میں20 سال قید کی سزا سنا دی گئی پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5000 روپے سے زائد کا اضافہ سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مستردCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تاکائیچی کی جاپان کی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔