کراچی سے پنجاب جانے والی مال بردار ٹرین ڈی ریل، اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریک متاثر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
محراب پور اور سیٹھارجہ ریلوے اسٹیشن کے درمیان کراچی سے پنجاب جانے والی مال بردار ٹرین ڈی ریل ہو گئی، جس کے باعث اپ اور ڈاؤن دونوں پٹڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے بعد ریلوے ٹریفک بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق واقعے کے نتیجے میں متعدد مسافر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے۔ مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ریلوے انتظامیہ نے فوری طور پر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ ٹریک کی مرمت اور بحالی میں 8 سے 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت بتدریج معمول پر آنے کا امکان ہے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔