جرائم، آلودگی اور بے ہنگم ہجوم؛ بھارتی دارالحکومت دنیا کے پریشان کن شہروں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی دارالحکومت جرائم، آلودگی اور بے ہنگم ہجوم سمیت دیگر بنیادوں پر دنیا کے پرنشان کن شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔
دنیا بھر میں سیاحت کے رجحانات جانچنے اور مسافروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی معروف سروس کمپنیوں SCS Chauffeur اور House Fresh کے ماہرین نے ایک جامع تحقیق کی ہے، جس میں دنیا کے مختلف بڑے شہروں کا تقابلی تجزیہ کیا گیا۔
اس نئی تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کون سے شہر ایسے عوامل کی وجہ سے سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث بنتے ہیں جو ان کے سفر کے تجربے کو متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق میں جرائم کی شرح، فضائی آلودگی، آبادی اور سیاحوں کا غیر معمولی ہجوم، ٹریفک جام اور شہری نظم و نسق جیسے عوامل کو بنیاد بنایا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام عناصر مل کر نہ صرف شہری زندگی کو مشکل بناتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی شدید ذہنی دباؤ، خوف اور عدم اطمینان کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیقی نتائج کے مطابق دنیا کا سب سے زیادہ پریشان کن شہر جنوبی افریقا کا ساحلی شہر کیپ ٹاؤن قرار پایا، جہاں جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں، اسٹریٹ کرائم اور عدم تحفظ کے واقعات سیاحوں کے لیے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیپ ٹاؤن میں سیاحوں کو نہ صرف جرائم بلکہ معاشرتی عدم استحکام اور بعض علاقوں میں پولیس کی کمزور موجودگی کا سامنا بھی رہتا ہے۔
اس فہرست میں دوسرا نمبر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کو دیا گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی دہلی میں آلودگی کی سطح اس قدر زیادہ ہے کہ کئی غیر ملکی سیاحوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور صحت کے دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا سیاحتی تجربہ شدید متاثر ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی میں بے تحاشا ہجوم، ٹریفک کا بے قابو دباؤ اور متفرق نوعیت کے جرائم بھی سیاحوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے باوجود شہر کا انفرا اسٹرکچر بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر سیاحت پر پڑتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نئی دہلی کے بعد جوہانس برگ، زیورچ، ساؤ پالو، جکارتا، کوالالمپور، میکسیکو سٹی، ایتھنز اور نیپلز کو بھی دنیا کے نسبتاً زیادہ پریشان کن شہروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ شہر بنیادی شہری مسائل پر توجہ دیں تو نہ صرف مقامی آبادی بلکہ عالمی سیاحوں کے لیے بھی ان کا تشخص بہتر ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیاحوں کے لیے نئی دہلی کے مطابق دنیا کے گیا ہے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔