پاکستان میں مقامی ویکسین تیاری کا فیصلہ، او آئی سی ویکسین الائنس کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ویکسین پالیسی تیار کی گئی ہے اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اب بس‘: تھائی لینڈ نے ہاتھیوں کو مانع حمل ویکسین دینی شروع کردی
وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ قریباً 4 ملین ڈالرز کی ویکسین خریدتا ہے، جس میں 51 فیصد لاگت پاکستان جبکہ 49 فیصد گاوی اور دیگر ڈونرز ادا کرتے ہیں، تاہم 2030 کے بعد پاکستان کو ویکسین کی سو فیصد لاگت خود برداشت کرنا ہوگی، جو 1.
مصطفیٰ کمال کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کے ساتھ ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے شراکت داری پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ چین اور انڈونیشیا سے بھی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے، جہاں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، مگر اس وقت کوئی ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: شِنگلز ویکسین تکلیف سے بچاؤ کے علاوہ مزید کیا فائدہ پہنچاتی ہے؟
وفاقی وزیر صحت نے او آئی سی ویکسین الائنس بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، کیونکہ صحت مند قوم اور معاشی استحکام قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ او آئی سی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ویکسین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: او ا ئی سی وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال ویکسین او آئی سی ویکسین
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔