اسلام آباد:

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلامی ممالک پر مشتمل ’’او آئی سی ویکسین الائنس‘‘ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری پورے شعبہ صحت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور اسلامی ممالک کو اس حوالے سے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے جہاں ہر سال 60 لاکھ سے زائد آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونی انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم 2030 کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اپنی استعداد اور ویکسین تیاری کی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں انفرا اسٹرکچر کی کمی نہیں، قومی ادارہ صحت جیسے مضبوط ادارے موجود ہیں، تاہم ویکسین کی تیاری یا خرید و فروخت کوئی منافع بخش کاروبار نہیں، اسی لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان چین، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ تعاون حاصل کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب گزشتہ 10 برسوں سے ویکسین تیاری کے عمل سے گزر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم، 4 کروڑ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی ہے، جس کے تحت ایک کمپنی صرف ایک ویکسین تیار کر سکے گی تاکہ معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور او آئی سی ویکسین الائنس پر شارٹ ٹرم، میڈیم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر آج ہی سے کام شروع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ویکسین کی قلت پر معلوم ہوا کہ عالمی ادارہ  ’’گاوی‘‘ بھارت سے ویکسین خرید کر پاکستان کو سپلائی کر رہا تھا، جس کے بعد مستقل منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صحت مند ماحول، صحت مند قوم اور معاشی استحکام کا براہِ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے، اس لیے ویکسین میں خود کفالت ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: او آئی سی ویکسین وفاقی وزیر صحت کہ پاکستان ویکسین کی

پڑھیں:

محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا

اسلام آباد میں وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیاں ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، ‎گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے