اوگرا چیئرمین کی تعیناتی پر کمیٹی میں گرما گرمی، سینیٹر منظورکاکڑ نے قانونی سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اوگرا چیئرمین کی تعیناتی پر کمیٹی میں گرما گرمی، سینیٹر منظورکاکڑ نے قانونی سوالات اٹھا دیے WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: سینیٹر رانا محمود الحسن کی صدارت میں قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس ہوا، جس میں بیوروکریٹ کی ٹرانسفر سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
اجلاس میں سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر کاکڑ نے کہا کہ موجودہ چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور قانونی طور پر اس عہدے پر تعیناتی کے لیے دوبارہ توسیع کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ریٹائرڈ افسر کو توسیع پر توسیع دی جا رہی ہے، اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چیئرمین اوگرا اس وقت قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں۔”
چیئرمین کمیٹی کے مطابق، اجلاس میں پالیسی معاملات پر چیئرمین اوگرا کے رویے پر بھی بات چیت ہوئی۔ سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے واضح کیا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں کسی کی مداخلت کا اختیار نہیں ہے اور موجودہ چیئرمین کو وفاقی حکومت کی منظوری سے توسیع دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 22 فروری کو چیئرمین اوگرا کی موجودہ تعیناتی کا دورانیہ مکمل ہو رہا ہے، اور قانون کے مطابق توسیع دی جا سکتی ہے۔
سینیٹر منظور کاکڑ نے بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمود الحسن نے کہا کہ اس معاملے کو بیٹھ کر حل کیا جائے گا تاکہ قانون اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرموڈیز نے بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا موڈیز نے بینکنگ سیکٹر کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کر دیا انڈونیشیا کے وزیرِ سرمایہ کاری دو روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے: خواجہ آصف چابہار سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت کا ایرانی تیل بردار جہازوں پر قبضہ، امریکی دباؤ یا سفارتی حکمت عملی؟ جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی سات دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن