خیرات کے نام پر تضحیک، سوشل میڈیا انفلوئنسر کو 28 لاکھ سے زائد جرمانے کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ملائیشیا کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد شائع کرنے کے جرم میں 23 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر تانگ سی لوک پر 40 ہزار ملائیشین رنگٹ (تقریباً 28لاکھ 45ہزار 360 روپے) جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ عمل خیرات نہیں بلکہ انسانی وقار کے خلاف ایک دانستہ استحصالی اقدام تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تانگ سی لوک نے 3 اگست 2025 کو چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ڈویئن پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جسے بعد ازاں انسٹاگرام پر بھی شیئر کیا گیا۔ ویڈیو میں تین نوعمر لڑکوں کو دکھایا گیا جو فاسٹ فوڈ کے ایک ڈبے سے مرغی کھانے کے بعد ہڈیوں کو چاول کے ساتھ ملا کر ایک بے گھر شخص کو دیتے ہیں۔ ویڈیو کے آغاز میں وائس اوور کے ذریعے اس عمل کو ’نیکی‘ قرار دیا گیا تھا۔
View this post on Instagram
A post shared by 郑世禄 TANG SIE LUK (@aluk_77)
ویڈیو منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا اور صارفین نے اسے بے گھر شخص کی توہین اور انسانی وقار کی پامالی قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق متاثرہ شخص نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس واقعے سے خود کو شدید طور پر ذلیل اور غصے میں محسوس کر رہا ہے۔
ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام خیراتی سرگرمی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر شہرت اور توجہ حاصل کرنے کے لیے انسانی تکلیف کا استعمال تھا لہٰذا اس پر سخت اور عبرت ناک سزا عائد کی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر کی پُراسرار موت، پولیس نے تحقیقات میں کیا انکشاف کیا؟
ملزم نے بغیر کسی قانونی نمائندگی کے عدالت میں پیش ہو کر جرم کا اعتراف کیا اور کم سے کم جرمانے کی درخواست کی، ساتھ ہی اپنے عمل پر ندامت اور معذرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چار ماہ قید کی سزا بھی سنائی تاہم اطلاعات کے مطابق ملزم نے فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد جرمانے کی رقم ادا کر دی۔
واقعے کے بعد تانگ سی لوک نے مذکورہ ویڈیو حذف کر دی اور سوشل میڈیا پر عوامی معافی جاری کی تاہم اس کے باوجود عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بے گھر شخص سے براہِ راست معافی مانگی جائے اور محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اپنی ندامت ثابت کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکر سوشل میڈیا سوشل میڈیا انفلیوئنسر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر جرمانے کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔