کوئٹہ، سانحہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ اور شیخ مہدی نجفی کیلئے فاتحہ خوانی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد کے شہداء اور شیعہ علماء کونسل کے سابق صوبائی صدر علامہ مہدی نجفی کے ایصال ثواب کیلئے کوئٹہ کی امام بارگاہ گلگتی علمدار روڈ میں فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل بلوچستان کی جانب سے سانحہ جامعہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد کے شہداء اور شیعہ علماء کونسل کے سابق صوبائی صدر علامہ مہدی نجفی کے ایصال ثواب کے لئے کوئٹہ کی امام بارگاہ گلگتی علمدار روڈ میں فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے رہنماء علامہ دبیر حسین امام بارگاہ میں موجود رہیں، جبکہ شہر کی مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی عمائدین نے شرکت کرتے ہوئے شہداء و مرحومین کے بلند درجات اور ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیعہ علماء کونسل فاتحہ خوانی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔