منظم اور جبری بھیک سنگین جرم ؛ تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے جرمانہ،بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سٹی 42 : گداگری قابل سزا سگین جرم قرار دیا گیا ۔ خیبر پختونخواہ میں بل منظور کرلیا گیا ۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وگرنسی/گداگری کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مجوزہ نئے قانون کے مطابق منظم اور جبری بھیک کو قابلِ سزا سنگین جرم قرار دیتا ہے،بھیک کو پیشہ بنانے والوں اور مجبوری کے شکار افراد کے درمیان واضح فرق کرتا ہے۔بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع کے ذریعے مستقل حل فراہم کرتا ہے۔ سادہ بھیک پر پہلی بار وارننگ یا بحالی مرکز بھیجنے / ایک ماہ قید و جرمانہ تجویز یت بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ۔ فراڈ، دھوکہ دہی اور جعلی معذوری پر ایک سے دو سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم ; نوٹیفیکشن جاری
بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کیلئے سخت ترین سزائیں شامل کی گئی ہیں ۔ خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جو بھیک جیسے سنگین سماجی مسئلے کا جامع، پائیدار اور انسانی حل متعارف کرا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔