ملک میں بھیک مانگنا منظم کاروبار بن چکا: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے، انہوں نے کہا کہ بھیک مانگنے والے نیٹ ورکس کروڑوں روپے کماتے ہیں اور اس مقصد کے لیے بچوں، خواتین اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ بڑی تعداد میں بھیک مانگنے والوں کو خلیجی ممالک بھیجا جا رہا ہے، جس کے باعث متعلقہ ممالک نے پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ایک گھناؤنا کاروبار ہے جس میں ہوائی اڈوں پر تعینات مختلف محکموں کے اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے,سیالکوٹ میں جنوبی پنجاب سے آ کر بھیک مانگنے والے گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں,انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں بھیک مانگنے والوں کے خلاف نمایاں کمی آئی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھیک مانگنے والوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے اور اس نیٹ ورک کے ساتھ دیگر جرائم بھی منسلک ہیں, ان کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
13 سے 15 فروری کے درمیان زلزلہ خیز سرگرمیوں کا خدشہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔