Jang News:
2026-07-24@12:20:21 GMT

بھیک مانگنا پروفیشن بن چکا ہے: خواجہ آصف

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

بھیک مانگنا پروفیشن بن چکا ہے: خواجہ آصف

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھیک مانگنا ایک پروفیشن بن چکا ہے جو باقاعدہ آرگنائزڈ ہے۔

انہوں نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ بھیک منگوانے کے لیے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو بچوں، عورتوں اور جعلی معذوروں کو بھرتی کر کے کروڑوں کما رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہی مافیا ان بھیک منگوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہی ہے اور خلیجی ممالک نے زچ ہو کر ہمارے ویز ے بند کر دیے ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی سے نہیں افغان طالبان کے ساتھ بات کی، خواجہ آصف

کراچی جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے.

..

انہوں نے کہا ہے کہ اس گھناؤنے کام میں ایئر پورٹ پر مختلف محکموں کا عملہ حصہ دار ہے اور مال بنا رہا ہے، سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ہیں۔

خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں سے اس گھناؤنے کاروبار میں کمی آئی ہے تاہم کارروائیوں کے باوجود اب بھی بھکاریوں کی موجودگی نظر آتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے لوگ ان بھکاریوں کے ٹھیکیدار ہیں اور جب گداگروں پہ کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو یہ ٹھیکیدار سفارشی بن کر آ جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ گھناؤنا کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ ’روزگار‘ مہیا کر رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف کہا ہے کہ

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان