سندھ اسمبلی میں جامعات پر بحث، بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جامعات، بسوں کی حالت اور دیگر امور پر بحث ہوئی جب کہ بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔
صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس کے آغاز میں سانحہ اسلام آباد میں شہید ہونے والے کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اس کے بعد سندھ اسمبلی میں محکمہ جامعات و بورڈز سے متعلق سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا، تاہم اپوزیشن ارکان نے ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا اور شور شرابہ کیا۔
ایوان میں شور شرابے کے دوران ریحانہ لغاری نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بات کرنے کا موقع ملے گا، ایوان کو چلنے دیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے ایوان میں شور کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بات کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر ریحانہ لغاری نے کہا کہ آپ کو بات کرنے کا موقع دیا جائے گا، پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں۔
اس دوران اپوزیشن کے دیگر ارکان کی جانب سے بھی شور شرابہ جاری رہا، جس پر کہا گیا کہ آپ کو موقع ملے گا، ایجنڈا کو چلنے دیں اور مختصر بزنس ہے، آپ بزنس کو چلنے دیں۔
اجلاس کے دوران وزیر اسماعیل راہو نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے 17 سال میں 10 نئی یونیورسٹیاں بنی ہیں اور یونیورسٹیوں کے 16 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز اور کیمپس میں بسوں کی کمی ہے، تاہم کورنگی اور ملیر سے کراچی یونیورسٹی کے لیے پوائنٹس چلتے ہیں۔
اس موقع پر رکن اسمبلی شارق جمال نے کہا کہ یونیورسٹی کی بسوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور خستہ حال بسوں کو جنازے کی بس کہا جاتا ہے۔
وزیر اسماعیل راہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بسیں ایسی ہیں جو اچھی نہیں ہیں، کراچی یونیورسٹی کی 15 بسیں خراب پڑی ہیں جب کہ دیگر جو بسیں چل رہی ہیں وہ بہتر ہیں۔
اسی دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کو پوائنٹ آف آرڈر پر بات نہ کرنے دینے پر احتجاج بھی کیا گیا۔
اجلاس میں رکن اسمبلی واجد علی نے ایوان کو بتایا کہ مجھے گزشتہ روز گرفتار کرکے تشدد کیا گیا، کورنگی پولیس نے جیب سے میرے پیسے نکالے، مذکورہ ایس ایچ او کو ہٹایا جائے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے سامنے قسم کھا کر کہا کہ میں کسی جرائم میں ملوث نہیں ہوں۔
اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی آڈٹ رپورٹ پیش کی، جسے بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا۔ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جسے وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے ایوان میں پیش کیا۔
بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بات کرنے کی اجازت سندھ اسمبلی ایوان میں نے ایوان کہا کہ
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :