بھاٹی گیٹ کیس، ورثا کی معافی پر عدالت نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بھاٹی گیٹ لاہور میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے میں مدعیان نے ملزمان کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا، اس پیشرفت کے بعد عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: متوفیہ کے شوہر کی حراست اور مبینہ تشدد پر ایس ایچ او معطل
جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کی، جہاں مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی انہیں بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر کوئی اعتراض ہے۔
عدالت نے فریقین کے درمیان صلح کو تسلیم کرتے ہوئے گرفتار 5 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کے الزاماتاس سے قبل اس کیس میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی تھی جب متاثرہ خاندان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ مقدمے کے مدعی خاتون کے والد ساجد حسین سے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر
اس حوالے سے تھانے میں انگوٹھا لگوانے کے بعد کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی۔
ورثا کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار انہیں مجبور کرکے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر لے گئے، جس پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
واقعے کا پس منظرچند روز قبل بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک ماں اپنی بیٹی سمیت کھلے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ابتدائی طور پر انتظامیہ پر الزام لگا کہ اس نے واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ماں بیٹی کے گرنے کی اطلاعات کو غلط قرار دیا۔
انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ تکنیکی طور پر اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن نہیں، دوسری جانب پولیس نے بھی ابتدائی مرحلے پر واقعے کو گھریلو جھگڑے کا رخ دینے کی کوشش کی اور شوہر کے خلاف بیوی سے تنازع اور سنگین الزامات پر مبنی رپورٹ مرتب کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: پولیس نے تشدد کیا اور قتل کا اعتراف کرانے کی کوشش کی،شوہر کا الزام
بعد ازاں شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم بعد میں پولیس نے کسی کو حراست میں لینے کی تردید کر دی۔
اس معاملے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر، منیجر اور کنسلٹنٹ کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھاٹی گیٹ پولیس جوڈیشل مجسٹریٹ حکم رہائی لاہور ماں بیٹی معافی ملزمان ورثا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھاٹی گیٹ پولیس جوڈیشل مجسٹریٹ رہائی لاہور ماں بیٹی معافی بھاٹی گیٹ ملزمان کو
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔