اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ جب بھی ہم سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں، انصاف ملنے کی توقع پوری ہوتی ہے اور ماضی میں ہر مرتبہ عدالت عظمیٰ سے ریلیف حاصل ہوا، تاہم حکومت کی جانب سے ان فیصلوں کے خلاف مسلسل اپیلیں دائر کی جا رہی ہیں، سائفر کیس پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین ٹرائل ثابت ہوا، جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور ملاقاتوں پر عائد پابندیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب مقدمات کو مقرر نہیں کیا جا رہا اور دوسری طرف ملاقاتوں پر قدغن لگا دی گئی ہے، جو بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، ایک ہی وقت میں چودہ مقدمات کا مقرر ہونا واضح طور پر سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے۔

سلمان صفدر نے مزید کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم تین سو سے زائد مقدمات میں وکالت کر رہا ہوں، مگر گزشتہ پانچ ماہ کے دوران محض ایک بار پانچ منٹ کے لیے ملاقات کی اجازت دی گئی، نہ تو کیسز باقاعدگی سے چل رہے ہیں اور نہ ہی مناسب ملاقاتوں کا انتظام کیا جا رہا ہے، جس سے دفاع کے حق کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے اور اس سے قبل خصوصی ضمانت کے مقدمات کا مقرر ہونا معمول کی قانونی روایت ہے، مگر ان کے کیسز کو دانستہ طور پر التوا میں رکھا جا رہا ہے، اگر ان مقدمات کو سنا جائے تو بیشتر معاملات جلد منطقی انجام تک پہنچ سکتے ہیں۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے زور دیا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر خود ایک بڑی ناانصافی کے مترادف ہے اور عدالتی نظام کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ