Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:52:48 GMT

ایرانی تیل کے جہاز ضبط، بھارت کا سفارتی دوغلا پن بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ایرانی تیل کے جہاز ضبط، بھارت کا سفارتی دوغلا پن بے نقاب

تہران :(ویب ڈیسک) مفاد پرست بھارت نے ایران کے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار تین جہاز بھی ضبط کر لیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو روکا، جو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر تھے۔ ضبط شدہ جہازوں کے نام ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ہیں، جو ایران سے منسلک تھے۔

ماہرین کے مطابق، بھارت کے یہ اقدامات اس کی موقع پرستانہ اور متضاد خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہیں اور چابہار بندرگاہ سے واپسی کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی ایران کو چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

اس سے قبل، بھارت امریکی دباؤ میں آ کر چابہار سے دستبردار ہو چکا تھا اور امریکی پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم بھی ادا کر چکا تھا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ مودی کی حکومت کی دکھاوے، جھوٹ اور دھوکے پر مبنی خارجہ پالیسی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی