نائن الیون کی تحقیقات کا آج تک پتہ نہیں چلا مگر اس میں افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون میں میں ملوث عناصر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، سانحے کوئی افغان، پشتو یا ہزارہ ملوث نہیں تھا مگر ہم نے اس واقعے کے بعد کرائے کی جنگ لڑی اور پھر ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے، ایک دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی ویزہ نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں کے فریق بنے، روسی افغانستان کی دعوت پر وہاں آئے تھے جس کے خلاف کوئی جہاد نہیں تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا مگر اس کے بعد ہم کرائے کی جنگ لڑتے رہے، ایک شخص نے امریکا کی خوشنودی کے لئے ملک کو امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنادیا۔
مزید پڑھیںترلائی دھماکا، بھارت نے خودکش حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی، وفاقی وزیر
اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کی مزید سی سی ٹی وی فوٹیج سامنےآگئی، خودکش حملہ آور کا چہرہ بھی واضح
خواجہ آصف نے کہا کہ نائن الیون کا آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کس نے کرایا مگر اس میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ نہیں تھا اس کے باوجود ہم 2 دہائیوں تک کرائے پر دستیاب تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، افغانستان میں پاکستان نے جہاد نہیں لڑا کیونکہ یہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی جس کے بعد ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ میں نے اسی ایوان میں اپنے باپ کے کئے کی معافی مانگی، اعجاز الحق نے پتہ نہیں اس ایوان میں میرے بارے میں کیا کہا۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے اتحاد، تنظیم اور ایمان کہا مگر ہم نے ایمان، اتحاد تنظیم کردیا، ہم نے غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر سڑکوں کے نام رکھے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ہم اپنے ہیروز کو اپنا ہیرو کیوں نہیں مانتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نائن الیون وزیر دفاع نے کہا کہ پتہ نہیں انہوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔