سانحہ گل پلازا کیس کی سماعت، بچہ ماچس سے کھیل رہا تھا جس سے آگ لگی، عینی شاہد کا عدالت میں بیان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سانحہ گل پلازا کیس میں اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کی عدالت میں 4 عینی شاہدین نے اپنا بیان قلمبند کرادیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کی عدالت کے روبرو سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کے عینی شاہدین 3 سیلز مین اور ایک 13 سالہ طالبعلم نے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔
عینی شاہدین آریان، طلحہ، وحید اور حمزہ شامل ہیں۔ 13 سالہ آریان نے اپنے بیان میں کہا کہ 17 جنوری کو میں حظیفہ کو گڈ بائے کہنے گیا تھا۔ وہ دکان پر بیٹھا تھا، جو اس کے ابو کی تھی وہ ماچس سے کھیل رہا تھا۔
حظیفہ کے پاس ماچس کے دو ڈبے تھے اور وہ دوکان پر اکیلا تھا۔ میں وہاں 5 بجے گیا تھا اور ساڑھے 8 بجے وہیں رہا۔ اس کے بعد میں اپنے ابو کی دکان پر گیا جہاں میں صمد کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ صمد کا آگ میں انتقال ہوگیا ہے۔ جب میں رات کو 10 بجے حظیفہ کو گڈ بائے کہنے گیا تو وہ ماچس سے کھیل رہا تھا جس سے آگ لگ گئی۔ وہ پہلے بھی ایسا کرچکا تھا دوکان والوں نے اس کو منع بھی کیا تھا اسکے بعد آگ زیادہ لگ گئی۔
طلحہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 17 جنوری کو اپنی دکان پر باتیں کررہے تھے کہ اچانک سے فلاور کے دوکان میں آگ لگ گئی۔ ہم نے سوچا کہ اگ بجھا دیں مگر آگ کی شدت زیادہ تھی تو سوچا اپنی جان بچا لیں۔ اور پھر ہم وہاں سے نکل گئے۔
وحید نے بیان میں کہا کہ 17 جنوری کو ہفتے کے دن ہم اپنی دکان میں پیجھے بیٹھے تھے کہ بچوں کے لڑنے کی آواز آئی۔ ہم نے سنا کہ آگ لگ گئی کی ہم کھڑے ہوئے اور دیکھا کہ آگ لگی ہوئی تھی۔ پھر ہم نے دکان سے فلاور ہٹانے کی کوشش کی مگر نٹس فلاور کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ پھر آگ تیز ہوگئی اور سب دھواں دھواں ہوگیا پھر کمیٹی کے لوگ آگئے میں پیچھے ہٹ گیا۔
انہوں نے کہا کہ آگ جب زیادہ تیز ہوئی تو مارکیٹ سے باہر نکل آیا۔ حمزہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو ہم بیٹھے حساب کتاب کررہے تھے کہ دوکان نمبر 193 میں آگ لگ گئی۔ آگ بہت زیادہ تھی پانی ڈالنے کے باوجود شدت میں کمی نہیں آئی اور پھر ہم باہر کی طرف بھاگے اور جان بچ گئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ عاصم اسلم نے گواہان کے بیانات کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنالیا۔ عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ 17 جنوری کو کھیل رہا تھا آگ لگ گئی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔