’پستول اتنی نزدیک سے چلائی گئی تھی کہ فضل خان کا چہرہ مسخ ہوگیا‘۔ (کیک اور کتے)

لاطینی ادب کا فکشنی دیوتا گیبریئل گارسیا مارکیز کہا کرتا تھا کہ اسے اپنی کہانیوں کا پہلا جملہ لکھنے کےلیے بسا اوقات مہینوں لگ جاتے تھے اور اس کےلیے کہانی کا پہلا جملہ لکھنا سب سے مشکل لمحہ ہوتا تھا اور جب وہ کامیابی کے ساتھ پہلا جملہ لکھ لیتا تو پھر کہانی لکھنا اس کےلیے مسئلہ نہیں ہوتا۔

اقبال خورشید نے یہ طریقہ مارکیز سے سیکھا ہے جبکہ مارکیز  نے یہ تکنیک کافکا جیسے استاد سے سیکھی تھی جس کے ناول ’کایا کلپ‘ کے آغاز نے اُس کے اندر فکشن لکھنے کی ایسی جوت جگائی کہ پورا لاطینی خطہ اس سے جگمگا اٹھا۔

’لاش کے پاس ایک کیک پڑا تھا۔ کیک کی ساری کریم آوارہ کتوں نے چاٹ لی تھی‘۔ (کیک اور کتے) 

اقبال خورشید کے افسانوی مجموعے ’چھنال اور دیگر افسانے‘ کی پہلی کہانی بہت سیدھے سادھے انداز میں لکھی ہوئی ہے، یہاں ارنسٹ ہیمنگوے کا شہرہ آفاق افسانہ ’دی کلرز‘ یاد آتا ہے، وہ بھی اسی طرح رواں دواں مکالماتی اسلوب کے ساتھ شروع سے اختتام تک چلتا ہے لیکن ہیمنگوے کے نزدیک افسانہ ایک آئس برگ کی طرح ہوتا ہے، یہ جتنا نظر آتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے اور اس کو تلاشنا قاری کا کام ہے۔

اقبال خورشید یہاں مارکیز کی ’طلسماتی حقیقت نگاری‘ کا انداز اپناتے ہیں، جس طرح کرنل اورلیانو بوئندیا کو فائرنگ اسکواڈ کا سامنے کرتے ہوئے اپنے بچپن کی وہ دوپہر یاد آتی ہے جو وہ اپنے والد کے ساتھ زندگی میں پہلی مرتبہ برف کو چھونے کا ناقابل فراموش تجربہ حاصل کرتا ہے اسی طرح صابر آفریدی گولی کی آواز اور سنسناہٹ سن کر اپنے گاؤں کے اس دریا کو یاد کرتا ہے جو سوکھ چکا ہے۔ 

اس افسانے میں کراچی کے لسانی فسادات کے دوران انسانی کرب کو لفظوں میں قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیک یہاں شہر کی علامت بنتا ہے اور کتے وہ فسادی ہیں جو لسانیت کے زہریلے خونخوار دانتوں سے کیک پر دھاوا بول کر اس کی ساری کریم کو چاٹ جاتے ہیں۔ 

’عبدالغفور نے جو لاش وصول کی، اُس پر تپ چڑھا تھا‘۔ (سرد خانے کا ملازم)

جس طرح مارکیز کے فکشن میں ماکوندو کے کڑوے باداموں کی خوشبو جابجا بکھری نظر آتی ہے اسی طرح اقبال خورشید کی کہانیوں میں بارود اور خون کی بو قاری کے نتھنوں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اقبال خورشید کی طرح مارکیز نے بھی صحافت میں ایک لمبا عرصہ گزارا تھا، اس لیے اپنے فکشن میں صحافتی تکنیکوں کو جس کمال کے ساتھ مارکیز نے استعمال کیا، اقبال خورشید نے بھی اس کو خوبی کے ساتھ نبھایا ہے۔ 

مارکیز کا ناول ’ایک پیش گفتہ موت کی روداد‘ ایک فکشنی معجزہ ہے جس میں بظاہر ایک عام سے قتل کے واقعے کو بیان کیا گیا ہے لیکن اس کی تفتیشں کےلیے جس طرح کا دلفریب، حیران کن اور قدرے پیچیدہ اسلوب اختیار کیا گیا وہ قاری کو دنگ کردیتا ہے۔ اقبال خورشید نے اپنی کہانیوں میں جگہ جگہ اس تحیر انگیز اسلوب کو اپنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اکثر کہانیاں مختلف راویوں کے ذریعے چلتی رہتی ہیں، اقبال خورشید ان کہانیوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی تگ و دو بھی نہیں کرتے اور ایک خوبصورت موڑ دے کر آگے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے قاری پر بھروسہ ہے کہ وہ اپنا راستہ خود تلاش کرلے گا، جس طرح اندھی گولی اپنے ٹارگٹ کو ڈھونڈ لیتی ہے۔

’ہوائیں سیاہی کے رتھ پر سوار تھیں، اُن میں بارود کی بو تھی، خون کی مہک تھی‘۔ (قبل از تاریخ کی ایک رات)

’چھنال‘ کے چند ابتدائی افسانے پڑھنے کے بعد قاری کا یہ تاثر بننا شروع ہوجاتا ہے کہ تمام کہانیاں کراچی کے شہریوں کی روح تک اتر جانے والے دکھ پر مشتمل ہوں گی اور اقبال خورشید اپنی قوم کی اس اداس اور ناراض نسل کی جانب سے فرض کفایہ ادا کررہا ہے جسے لسانی فسادات کے زہر نے تخلیقی طور پر لمبے عرصے کےلیے بانجھ کردیا ہے۔

اردو فکشن کا ایک بہت بڑا المیہ رہا ہے کہ چند سیاسی گِدھوں نے لسانیت کے مرداروں کا تعفن اپنے وجود میں اتار کر ایک متمدن اور پڑھی لکھی تہذیب کے نوجوانوں سے قلم چھین کر اسے بندوق پکڑا دی اور اس قوم کے دماغ میں احساس تفاخر، احساس محرومی اور عدم تحفظ کے ایسے مسخ تصورات کو ڈرل مشین سے نقش کردیا کہ دو نسلوں کی تباہی کے بعد بھی وہ تخلیقی سطح پر بیداری کو شجر ممنوعہ سمجھ کر بندوق کو ہی اپنی دنیا و آخرت کی فلاح کا حتمی فیصلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

اقبال خورشید کے فکشن کی خوبی ہے کہ کٹتے پھٹتے، جلتے جھلستے اور اندھی گولیوں کا شکار بنتے انسانوں کے کرب کا اظہار ایک فنکارانہ سطح سے آگے بڑھ کر ماتم کی شکل اختیار نہیں کرتا، وہ قتل کی بے چین کرنے والی خبروں کا بھی رونے پیٹنے کے بجائے ایک استہزائیہ ہنسی کے ساتھ استقبال کرتا ہے، وہ موت کی اٹل حکمرانی سے خوف زدہ نہیں ہے بلکہ وہ اس آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانے کی جرات رکھتا ہے، اسے مصورِ غم بننے کا شوق نہیں ہے بلکہ وہ سڑتی، جھلستی اور مسخ ہوتی لاش کے درمیان رجنی کانت کے اسٹائل میں سگریٹ جلا کر ایک گندے جنسی لطیفے میں قہقہہ لگانے کی حوصلہ رکھتا ہے۔ 

صحافی ہونے کے ساتھ فکشن نگار بننا ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کا جوکھم ہے، صحافت آج کل نوے فیصد پروپیگنڈے کا نام رہ گئی ہے اور یہ لاشعوری طور پر تحریر میں ایسا عامیانہ پن لاسکتی ہے جس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر ادیب فکشن کے نام پر پروپیگنڈا تحریریں لکھتے ہیں، جو فنی اظہار سے زیادہ ان کے دل کی بھڑاس لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ان تھکی ہوئی طوائفوں کی طرح مردار خور کہانیوں پر داد بھی چاہتے ہیں۔  

’مون سون کی پہلی بارش تھی، اُس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا اور وہ بس چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی‘۔ (چھنال) 

اقبال خورشید اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں پر مختلف ادبی، سیاسی اور سماجی نظریات سے متاثر رہے ہوں گے اور اس کا اظہار ان کے فکشن میں کہیں کہیں نظر بھی آجاتا ہے لیکن انہوں نے اپنے فکشن کو کسی بھی قسم کے ملکی اور غیر ملکی ازم سے آلودہ کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی،ان کے فکشنی کردار ترقی پسند کو ایک خفیہ کاروباری فریب سمجھتے ہیں، کمیونسٹ نظریہ انہیں انسانی عقل سے بیہودہ مذاق لگتا ہے اور اگر وہ فیمنزم کی کچھ قدروں پر یقین رکھتے ہیں تو وہیں مرد جاتی کی ’سوجی ہوئی زندگی‘ بھی ان سے اوجھل نہیں رہتی اور بے کل کیے رکھتی ہے۔ 
صحافت کے عامیانہ پن سے اپنے فکشن کو بچالینا اور اسے صرف جمالیاتی سطح پر برتنا اقبال خورشید کی ایسی خوبی ہے جو نہ صرف قابل داد ہے بلکہ وہ نئے لکھنے والوں کےلیے مشعل راہ بھی ہے۔ 

’چھنال‘ میں جہاں آپ کو مارکیز کی جادوئی حقیقت نگاری مبہوت کرتی ہے، وہیں اورحان پامک کی باکمال جزئیات نگاری بھی دامن کھینچنے لگتی ہے، گنگا جمنی تہذیب کی مٹتی قدروں کیلئے انتظار حسین کی اداسی بال کھولے سورہی ہے تو وہیں سارتر کے فلسفہ زندگی کی لایعنیت بھی اپنے خوف ناک تیور کے ساتھ مونچھوں کو تاؤ دیتی نظر آتی ہے۔

یہاں ڈیل کارنیگی بھی ہے جو موٹیویشن کے سنگھاسن پر براجمان ہوکر کہانی کے کرداروں کے غلط فیصلوں پر تحت الشعور کی بداعمالیاں سامنے لاکر تنقید کرتا ہے،کبھی اس میں منٹو کی روح اترتی ہے اور کہانی کا راوی شریف محلوں کی ان عورتوں کے بیڈ روم میں گھس جاتا ہے جہاں جسم سے زیادہ ننگی اور بدقماش طرز حیات نسوانی روحوں کو نوچ رہی ہے۔ ساتھ ساتھ مشہور چینل کے کم تنخواہ والے رپورٹر کا دکھ درد بھی سانجھا نظر آتے ہیں جو پریس کلب کی ممبر شپ اسی لیے حاصل نہیں کرسکا کہ اس میں کسی لابی کا حصہ بننے کی صلاحیت اور فارغ وقت نہیں ہے۔

اگر آپ ایک بڑے شہر میں بسنے والے چھوٹے کرداروں کی زندگی میں جھانکنا چاہتے ہیں، ان کے دکھ درد، ہنسی خوشی اور دلچسپ اطوار کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو ’چھنال‘ سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ انسانی کرب، اداسی اور دکھ کی جتنی پرتیں اس شہر آشوب نے دریافت کی ہیں، اس کو بیان کرنا کسی شریف زبان میں ممکن نہیں ہے، اس کیلئے ایک ’چھنال‘ کا لہجہ، ڈھب اور شوخی چاہیے اور اقبال خورشید نے یہی کیا ہے۔ 

’سورج غروب ہوچکا ہے، روشنی تیزی سے گھٹ رہی ہے، پر مجھے پروا نہیں کہ میں کہانی مکمل کرچکا ہوں‘۔ (ایک پاگل کہانی)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقبال خورشید نے چاہتے ہیں کے ساتھ نہیں ہے کے فکشن کرتا ہے ہے اور اور اس

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف