شیعہ ہونا جرم؟ پاکستان میں مسلکی دہشت گردی کا خون آلود چہرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: یہ مسلمان نہیں، یہ شہوت کے اسیر ہیں۔ یہ انسان نہیں، درندہ صفت انسان ہیں۔ ان کا دنیا میں بس ایک مقصد ہے: شیعوں کا قتل اور اس کے بدلے جنت و حور کا خواب۔ ان سب کے درمیان ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے کہ شیعہ قتل عام، شیعہ نسل کشی صرف پاکستان میں ہی کیوں اور وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں؟ اور پھر، اتنے دردناک سانحات کے بعد امت مسلمہ کا سرد اور کمزور احتجاج، کیوں؟ کیا ہم واقعی مسلمان نہیں؟ تحریر: عظمت علی
ہمیشہ کی طرح، ایک بار پھر عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ نمازی صف آراستہ تھے، اللہ کے حضور سربسجود، محوِ عبادت۔ مگر کسی کو تکلیف ہوئی میرا مطلب ہے دہشت گرد کو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے، مگر کم از کم اس حالیہ بم دھماکے کے تناظر میں یہ واضح طور پرکہہ سکتا ہوںکہ یہ ’’مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی دہشت گردی‘‘ ہے۔ یہاں مذہب اور مسلک کا کردار مرکزی ہے۔ کب تک ہم ’’شدت پسندی‘‘ اور ’’کالعدم تنظیم‘‘ جیسے مبہم الفاظ کی آڑ میں مجرموں کو کور فراہم کرتے رہیں گے؟
اسلام کے ماننے والے شیعہ اپنی مسجد میں عبادت کر رہے تھے کہ کسی ’’پکے مسلمان‘‘ کو جنت کی للک پیدا ہوئی، اور اس نے تیس سے زائد انسانوں کو بم سے اڑا دیا۔ اب عبادت گاہ خون سے لت پت ہے۔ مسجد ہے، مگر نمازی اللہ کے پیارے ہو چکے۔ مصلّے ہیں، مگر سجدہ گزار شہید ہو چکے۔ فرشِ مسجد پر کچھ شیعہ اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، خون میں لت پت۔ ان کے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ مائیں نوحہ کناں ہیں، یتیم بچوں کی آنکھوں میں آنسو رواں ہیں، اور کسی گوشے میں ایک بیوہ اپنی بے سروسامانی کے ساتھ حسرت و یاس میں ڈوبی بیٹھی ہے۔ کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔
باہر ایک آواز چیخ رہی ہے: ہماری خطا کیا ہے؟ یہی کہ ہم سجدہ گزار ہیں اور شیعہ بھی؟ سچ تو یہی ہے کہ آپ شیعہ سجدہ گزار ہیں۔ ’’شیعہ، شیعہ کافر‘‘ ہمیں کافر کہہ کر، خود کو مسلمان کہلا کر، ہمارا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ اسی نبیؐ کو نہیں مانتے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اپنے جانی دشمن مشرکین مکہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’آج انتقام کا دن نہیں، بلکہ رحم و کرم کا دن ہے۔‘‘ اور تم ہو کہ اسی نبیؐ کے امتی کو قتل کر رہے ہو!لعنت ہو ایسے طرزِ فکر پر اور ایسی درندگی پر۔ کیا ان کے پاس بھی وہی قرآن نہیں جس میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ بغیر جرم و خطا ایک انسان کا قتل، پوری انسانیت کا قتل ہے؟ اگر یہ دہشت گردی نہیں تو پھر دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟
ہم ببانگ دہل کہیں گے کہ ہاں، شیعوں کو مسلمانوں نے قتل کیا ہے۔ شیعوں کے قاتل مسلمان ہیں۔ مگر یہ وہ مسلمان ہیں جن کا حقیقتاً دین اسلام، اللہ، قرآن اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہیں بس حوریں چاہئیں اور جنت۔ ہم تو یہی کہیں گے:
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
جس میں انسانیت کے مجرم ہوں
یہ مسلمان نہیں، یہ شہوت کے اسیر ہیں۔ یہ انسان نہیں، درندہ صفت انسان ہیں۔ ان کا دنیا میں بس ایک مقصد ہے: شیعوں کا قتل اور اس کے بدلے جنت و حور کا خواب۔ ان سب کے درمیان ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے کہ شیعہ قتل عام، شیعہ نسل کشی صرف پاکستان میں ہی کیوں اور وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں؟ اور پھر، اتنے دردناک سانحات کے بعد امت مسلمہ کا سرد اور کمزور احتجاج، کیوں؟ کیا ہم واقعی مسلمان نہیں؟ چلیے، مسلمان نہ سہی، انسان تو ہیں نا؟ پھر دنیا خاموش کیوں رہتی ہے؟ دنیا سے گلہ شاید بے سود ہو، مگر مسلمان خاموش کیوں ہیں؟ یہ خاموشی اگر شریک جرم نہیں، تو پھر اور کیا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلمان نہیں کا قتل
پڑھیں:
صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش
سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ