دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی
ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغان پالیسی اور خارجہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں، اگر دہشت گرد آرہے تو ان کو ماردیں کس نے روکا ہے۔راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ8فروری کو دو سال پہلے اسی دن ملک میں مرکزی انتخابات ہوئے جو نتیجہ سامنے آیا اس کو مسترد کردیا گیا اور جعلی قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج جو حکومت کررہے ہیں جعلی مینڈیٹ پر حکومت کررہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے اپوزیشن میں ہیں، اگر ہمارا تعلق جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے یہ تاثر غلط ہے بلکہ یہ سفر کا حصہ ہوتا ہے منزل پر پہنچنے کا نام ہوتا ہے، حکومت آج بھی ہے بنائی نہیں گئی بلکہ کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے، ہماری جنگ کہ آئین کے ساتھ ہے کہ کسی اور سے لیکن قوم کسی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو اس کا احترام ہے لیکن یہاں کس طرح جھرلو پھیرا گیا، الیکشن کمیشن کو چلینج کرتا ہون الیکشن کمیشن کو ایک حلقے کا بھی نتیجہ معلوم نہیں تھا باہر سے آتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کٹ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، جمعیت علمائے اسلام الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ حقائق پر بات کرتی ہے، ہماری روش میں اعتدال اور دلیل ہے، اس بنیاد پر قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پر کیا گزری غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری، تین سال ہوگئے ان پر آگ کی بارش ہو رہی ہے شہر کے شہر مٹ گئے، 70 ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، ایک لاکھ سے زائد لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے، ڈیڑھ لاکھ لوگ بے گھر ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ہوگیا جو صہیونی روش جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی، بم اور ڈالر ان کے ہیں، دنیا اس کو نسل کشی کہتی ہے اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرم کو نوبل انعام ملنا چاہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج وہی ٹرمپ غزہ کے لیے امن کا پلان لایا، یورپی ممالک حصہ نہیں بن رہے ہیں، امن بورڈ کے اندر نیتن یاہو شامل ہے، انسانیت کا قتل مسلمانوں کا قاتل وہ بھی بورڈ میں ہو تو ایسے بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک کہتا ہے اقوام متحدہ میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو اسمبلی میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں، اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا گیا اور آج آپ بورڈ میں اس کا کردار مان رہے ہیں، شہباز شریف کاغذ پر دستخط کرتے ہیں تو ہنس کر دکھاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے جمعیت علمائے اسلام انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ا دو قدم ا گے رہے ہیں

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار