data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-8
لاہور میں بوکاٹا کی آوازیں گونج رہی تھیں، ہر طرف موسیقی کا شور تھا لیکن اسلام آباد میں مسجد سے نکلنے والے نمازیوں کی لاشوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ بے حسی اتنی پھیل گئی ہے کہ کسی کو احساس ہی نہیں ہوا کہ کیا سانحہ بیت گیا ہے؟ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد میں ہونے والے خودکش بم دھماکے نے پورے ملک کو غم کے سمندر میں ڈبو دیا۔ اس سانحہ نے درجنوں معصوم مسلمانوں کی جانیں لے لیں، لاشیں خون میں لتھڑی پڑی تھیں اس سانحے پر تو قومی سوگ کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ مگر افسوس! اسی دن لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بسنت کا جشن عروج پر تھا۔ پتنگیں آسمان میں لہرا رہی تھیں، گانے گائے جا رہے تھے، ڈیجیٹل اور ٹی وی میڈیا پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ کسی کو یہ خیال بھی نہیں آیا کہ مرنے والے بھی اسی ملک کے باشندے ہیں جہاں پتنگیں اُڑائی جا رہی ہیں اور افسوس تو یہ بھی ہے کہ لاہور میں پتنگ کی ڈور سے ایک نوجوان کا گلا کٹ گیا اور وہ اپنی جان سے گیا، لیکن ایک نوجوان کی موت اس جشن کو نہ روک سکی جو لاہور میں طمطراق سے منایا جارہا تھا روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ کے مصداق لاہور میں بسنت کی تقریبات جاری ہیں، یہ بے حسی، یہ شرمناک رویہ حکمرانوں کی قوم سے ہمدردی اور ان کے قومی شعور کی بد ترین مثال ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جب اسلام آباد میں بھارتی سازش کا نتیجہ دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہو رہا تھا، تو لاہور میں ہندو مذہبی تہوار کی یاد میں بسنت منائی جا رہی تھی؟

6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے ترلائی کلاں کے علاقے میں خدیجہ الکبریٰ مسجد (شیعہ مسجد) میں نماز جمعہ کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے خود کو اُڑا لیا۔ ابتدائی طور پر ریسکیو ٹیموں نے 10 شہدا اور درجنوں زخمیوں کی رپورٹ دی مگر بعد میں سرکاری اعداد و شمار نے اموات کی تعداد 31 بتائی جبکہ زخمیوں کی تعداد 169 تک پہنچ گئی۔

ملکی اور غیر ملکی میڈیا چینلوں کی رپورٹوں میں یہ فرق واضح ہے: NPR, The Guardian, Xinhua اور WUNC نے 31 شہدا اور 169-170 زخمیوں کی تصدیق کی، جبکہ وکی پیڈیا نے ابتدائی 10 سے بڑھا کر 31 کی تصدیق کی۔ مقامی پاکستانی ذرائع نے بھی 31 شہدا کا ذکر کیا مگر خبردار کیا کہ تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی زخمی نازک حالت میں ہیں۔ یہ اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ابتدا میں اموات کی تعدادکم بتائی گئی مگر اسپتالوں (جیسے PIMS) کی رپورٹ سے اصل تصویر سامنے آئی۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے 31 شہدا کی تصدیق کی۔ نیویارک ٹائمز نے اسے دارالحکومت میں حالیہ مہینوں کا دوسرا بڑا حملہ قرار دیا۔ یہ فرق میڈیا کی فوری رپورٹنگ کی وجہ سے ہے مگر حتمی تعداد 31 شہدا پر متفق ہے، یہ دارالحکومت کی تاریخ کے بڑے سانحات میں سے ایک سانحہ ہے۔ بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ مسجد کی دیواریں لرز اٹھیں، خون اور لاشوں کا منظر دیکھنے والوں کی روح کانپ اٹھی۔ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں اور ابتدائی شواہد سے اشارہ ملا کہ یہ حملہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی سازش کا حصہ ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی سازش کی ہے، جیسے کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں ہونے والے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت مل چکے ہیں۔ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں مسجد کو نشانہ بنانا واضح بھارت کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ ہم مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشیں گے۔ بھارت میں تو وہ مسجدوں کو تباہ کر ہی رہے ہیں لیکن پاکستان میں بھی خودکش بم دھماکوں کے ذریعے مسلمانوں کی مساجد کو تباہ کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں۔ حکومت نے سانحے پر قومی سوگ کا اعلان کیا مگر لاہور کی سڑکوں پر پتنگ بازی کا شور شرابہ جاری رہا۔ کیا یہ محض اتفاق تھا یا قومی سطح پر بے حسی کا عکاس؟

اس سانحے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات درج ہو چکے ہیں اور خفیہ اداروں نے بھارتی ہینڈلرز کی نشاندہی شروع کر دی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر کہا کہ حملہ آور افغانستان سے آیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب دارالحکومت خون میں ڈوبا ہو، تو صوبائی حکومتیں کیوں خاموش رہیں؟ پنجاب حکومت نے بسنت ملتوی کرنے کا کوئی نوٹس جاری نہ کیا، بلکہ بھارت سے ’’خصوصی مہمانوں‘‘ کو مدعو کر کے تقاریب میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ رویہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرناک بھی ہے۔ بسنت کا ہندو پس منظر اور مسلمانوں کا ہندوؤں کی پیروی میں اس کو منانا نہ صرف شرمناک بلکہ اپنے دین سے بغاوت بھی ہے۔ اس تہوار کو منانے والے بسنت کو پنجابی ثقافت کا حصہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگر حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ بسنت ہندو مذہبی تہوار ہے جو دیوی سرسوتی کی پوجا کے لیے منایا جاتا ہے۔ اور دیوی سرسوتی کو خوش کرنے اور منانے کے لیے پیلے رنگ کا لباس پہنا جاتا ہے۔ بھارت میں اس دن پیلے کپڑے پہننے، سرسوں کے پھولوں سے تعلق اور دیوی کی آرتی اتاری جاتی ہے۔ سرسوتی کو علم، موسیقی اور فنون کی دیوی مانا جاتا ہے۔ مگر پاکستان کے مسلمان یا تو اس پس منظر سے ناواقف ہیں یا پھر دانستہ اس کو نظر انداز کر کے ہندوؤں سے ہم آہنگی کے اظہار کے لیے اسے ہندوؤں کی طرح ہی مناتے ہیں۔ دلائل دینے والے کہتے ہیں کہ یہ سرسوں کے پھولوں کی تشبیہ ہے، مگر یہ محض دھوکا ہے۔ اصل میں یہ ہندو دیوی کی خوشنودی کے لیے ہے، یہ کسی بھی طرح مسلمانوں کا تہوار نہیں ہے۔ پاکستان میں بسنت کی جڑیں ہندو روایات سے ملتی ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں نے کئی ہندو تہوار اپنا لیے، جیسے ہولی اور دیوالی کی نقل لاہور کی کئی یونیورسٹیوں میں منائی جاتی ہے۔ بسنت بھی وہی ہے لہو کا کھیل، پتنگوں کی لڑائی جو ہر سال درجنوں جانیں لے لیتی ہے۔ گزشتہ برس لاہور میں بسنت پر 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، کئی اندھے ہوئے۔ پھر بھی حکومت اجازت دیتی ہے۔ یہ ثقافتی امتزاج نہیں، بلکہ مذہبی نقل ہے جو مسلمانوں کی شناخت کو کمزور کرتی ہے۔ جب بھارت پاکستان مخالف سازشیں کر رہا ہو، تو ہندو تہوار کی نقل کیسے جائز ہے؟ میڈیا کی شرمناک خاموشی اور پروموٹنگ ڈیجیٹل میڈیا اور ٹی وی چینلوں نے سانحے کے باوجود بسنت کی لائیو کوریج کی۔ گانے گائے گئے، پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی ہوئی، مگر اسلام آباد کے 31 شہدا کا ذکر کہیں نہ آیا۔ سوشل میڈیا پر ٹوئٹر (ایکس) اور انسٹاگرام پر بسنت کی ویڈیوز وائرل ہوئیں جبکہ سانحے کی خبر پس منظر میں چلی گئی۔ یہ میڈیا کی ذمے داری ہے؟ صحافت کا کام تو قوم کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تقسیم۔ ٹی وی پر بسنت اسپیشل پروگرام چلے، گانے جیسے ’’پتنگ اُڑائیں‘‘ گائے گئے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انفلوئنسرز نے لائیو اسٹریم کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب 31 لاشیں ابھی ٹھنڈی نہ ہوئیں، تو یہ خوشیاں کیوں؟ یہ بے حسی میڈیا مالکان کی کمائی کی بھوک ہے، جو ریٹنگز کے لیے سب کچھ کر گزریں گے۔ صحافتی اداروں کو چاہیے کہ قومی سانحے پر فوکس کریں، نہ کہ بسنت جیسے پرتعیش کھیل پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر دیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشمیر، دہشت گردی اور سرحدی جھڑپوں کے علاوہ بھارت کی مسلم دشمنی کی وجہ سے تلخ ہیں۔ بالاکوٹ حملے، پلوامہ سانحہ اور حالیہ سفارتی تناؤ اس کی مثالیں ہیں۔ اسلام آباد میں بم دھماکا بھی بھارتی سازش کا حصہ ہے۔ مگر لاہور میں پنجاب حکومت نے بھارت سے مہمان بلائے، جو بسنت کی تقریبات میں شریک ہوئے۔ یہ کیا پیغام ہے؟ جب پاکستان میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہو، تو دشمن ملک کے مہمانوں کو کیوں خوش آمدید کہا جائے؟ پنجاب حکومت کا یہ اقدام بھارت نوازی کھلا ثبوت ہے۔ بھارت سے مہمانوں کی شرکت سے ثقافتی پل بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ قومی مفادات کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیر میں بھارت کی جارحیت جاری ہے، بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے، تو بسنت پر بھارتی مہمان کیوں اور کیسے؟ یہ دوغلی پالیسی قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت کی سرکاری بے حسی اور قومی شعور میں کمی نے بسنت کی پر تعیش تقریبات کو ملتوی نہ کرنے پہ دیا۔

اسلام آباد کے سانحے پر قومی سوگ کا اعلان ہوا جہاں 31 شہدا ہوئے مگر لاہور میں جشن جاری رہا۔ یہ بے حسی شرمناک ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ قومی سانحے پر تمام تقریبات روکے، جیسے عید یا یومِ شہدا پر کیا جاتا ہے۔ لوگ سانحے بھول کر پتنگ اڑاتے رہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ بھی خاموش رہا وہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی ناراضی مول نہیں لینا چاہتا۔ یہ قومی شعور کی کمی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی مذہبی اور قومی شناخت کو مضبوط کریں، ہندو تہواروں کی نقل نہ کریں۔ حکومت سخت قوانین لائے، میڈیا ذمے دار ہو، اور قوم متحد ہو۔ بھارت سے تعلقات بہتر کرنے سے پہلے اپنی سلامتی یقینی بنائیں۔ یہ وقت بیداری کا ہے، نہ کہ جشن کا۔ قوم کی بقا مذہبی اور قومی شعور میں ہے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد میں اسلام ا باد کے پاکستان میں پنجاب حکومت مسلمانوں کی لاہور میں بھارت سے جاتا ہے اور قوم رہا تھا بسنت کی کے لیے

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی