مزدوروں کی لاشوں پر گل پلازہ کا سودا… ایک درد ناک سانحہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں یوں تو سانحوں کا تسلسل سے ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت گل پلازہ جیسے پرانے شاپنگ سینٹر میں مزدوروں کی دکانوں پر کیمیکل ڈال کر جلانے کا گھناؤنا عمل کیا گیا اور معصوم مزدوروں کو گل پلازہ کے ملبے تلے دفن کیا گیا اور جو زخمی تھے انہیں اس طرح زندہ درگور کردینا ایک ایسا عمل تھا جس پر سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی، سندھ بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن اتھارٹی اور بلڈر مافیا کو ڈوب کے مرجانا چاہیے۔ علامہ اقبال نے ایسے مسلمانوں کے متعلق فرمایا تھا “یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔ صرف شارٹ سرکٹ تو یہ بالکل بھی نہیں ہوسکتا کیوں کہ 33 گھنٹے آگ بجھانے میں لگے وہ بھی مزدوروں کی اپنی محنت سے ورنہ فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی ہمیشہ کی طرح ناقص ہی نظر آئی اور ایک فائر فائٹر نے اپنا فرض انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔ کیا فائدہ سندھ حکومت کی ایسی پروٹوکول گاڑیوں کا جن کے ہونے نہ ہونے سے غریب مزدور پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے مگر نہیں سندھ حکومت کو چودہراہٹ بھی تو دکھانی ہوتی ہے نا۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے صرف عیاشیاں ہی عروج پر ہیں باقی پورا شہر رشوتوں کے بازار سے بھرا ہوا ہے۔ اس سے کہیں بہتر یہ ہوتا کہ اضافی پروٹوکول پر خرچ ہونے والے کھربوں روپے فائر بریگیڈ کے ادارے کو تربیت یافتہ غیر سیاسی نئی بھرتیاں کروانے اور مینٹی ننس ڈیپارٹمنٹ پر خرچ کیے جاتے مگر یہ تو مزدوروں کے لیے ایک اچھا قدم ہوتا نا سندھ حکومت کو اس سب سے کوئی مطلب ہے؟ ہر بار الیکشن میں دھاندلی کروا کر ایلکٹڈ کے بجائے سلیکٹڈ لوگ جب ایوانوں میں جائیں گے تو پھر یہی ہوتا رہے گا۔ سانحہ گل پلازہ سے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کراچی کو موہنجوداڑو بنانے کا عزم سندھ حکومت
کی اولین ترجیح ہے کیونکہ جو حشر گل پلازہ کو کھنڈر بنا کر دکھایا گیا ہے وہی اس وقت پورے کراچی کی سڑکوں کا بھی ہے۔ مزدوروں کے بنے بنائے کاروبار گل پلازہ کی آگ کا اژدھا ایک سانحہ کی صورت میں نگل گیا مگر اب تک صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہ ہوسکا اور ہر بار کی طرح اب بھی یہی ہوگا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ سانحہ گل پلازہ نے سندھ حکومت کو ننگا تو کر کے رکھ دیا لیکن حیرت یہ ہے کہ انہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوا اور اب تک فائر بریگیڈ کی ناقص کارکردگی اور اس سانحہ کے اصل ذمہ داران کو سامنے بھی نہیں لایا جاسکا۔ مئیر کراچی نے غریب مزدوروں سے وعدے بھی کیے کہ نقصان کی بھرپائی کے لیے وفاق سے درخواست کی جائے گی۔ ہیں! مگر کیوں وفاق کہاں سے بیچ میں آگیا؟ واہ سائیں واہ۔ محترم قبلہ! آپ کو صرف مانگنا ہی آتا ہے دینا بھی سیکھیں۔ بجٹ میں ایمرجنسی کے لیے جو روپیہ آیا تھا وہ کہاں گیا؟ کب تک آپ کراچی کے مزدوروں کو یہ میٹھی میٹھی باتوں کا لولی پوپ دیتے رہیں گے؟ ایک طرف آپ کے یہ مزدوروں سے کئے ہوئے وعدے اور دوسری طرف گل پلازہ کی اربوں کھربوں کی اراضی باآسانی ہتھیا بھی لی گئی؟ ہاں بھئی! اب کون بلڈوزر کے خرچے اٹھاتا یا مزدوروں کو ایک ایک دوکان کا لاکھوں روپیہ دیتا۔ مزدوروں کی لاشوں کا مینار بنا کر سیاست کر کے سندھ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں کراچی کی عوام سے رتی برابر بھی ہمدردی نہیں ہے۔ غریب مزدوروں کے نقصان کی بھرپائی کے وہی کھوکھلے دعوے ہمیشہ کی طرح کر کے چلتے بنے۔ جب سارا نقصان وفاق نے ہی پورا کرنا ہے تو پھر برائے مہربانی کراچی کو وفاق کے حوالے ہی کردیں کیونکہ اس بات سے بھی آپ کی نااہلی واضح ہوگئی ہے اور آپ سے ہوگا بھی نہیں۔ اگر عوامی مسائل ہی آپ سے نہیں سنبھل رہے ہیں تو پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں تاکہ کسی عوامی نمائندے کو کام کرنے کے لیے آپ کی قبضہ شدہ جگہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ سندھ حکومت کو گل پلازہ کے مزدوروں کا خیر خواہ بنائے اور سانحہ گل پلازہ کے تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین ثمہ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت کو مزدوروں کی بھی نہیں گل پلازہ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔