Jasarat News:
2026-07-23@23:26:50 GMT

مزدوروں کی لاشوں پر گل پلازہ کا سودا… ایک درد ناک سانحہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں یوں تو سانحوں کا تسلسل سے ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت گل پلازہ جیسے پرانے شاپنگ سینٹر میں مزدوروں کی دکانوں پر کیمیکل ڈال کر جلانے کا گھناؤنا عمل کیا گیا اور معصوم مزدوروں کو گل پلازہ کے ملبے تلے دفن کیا گیا اور جو زخمی تھے انہیں اس طرح زندہ درگور کردینا ایک ایسا عمل تھا جس پر سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی، سندھ بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن اتھارٹی اور بلڈر مافیا کو ڈوب کے مرجانا چاہیے۔ علامہ اقبال نے ایسے مسلمانوں کے متعلق فرمایا تھا “یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔ صرف شارٹ سرکٹ تو یہ بالکل بھی نہیں ہوسکتا کیوں کہ 33 گھنٹے آگ بجھانے میں لگے وہ بھی مزدوروں کی اپنی محنت سے ورنہ فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی ہمیشہ کی طرح ناقص ہی نظر آئی اور ایک فائر فائٹر نے اپنا فرض انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔ کیا فائدہ سندھ حکومت کی ایسی پروٹوکول گاڑیوں کا جن کے ہونے نہ ہونے سے غریب مزدور پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے مگر نہیں سندھ حکومت کو چودہراہٹ بھی تو دکھانی ہوتی ہے نا۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے صرف عیاشیاں ہی عروج پر ہیں باقی پورا شہر رشوتوں کے بازار سے بھرا ہوا ہے۔ اس سے کہیں بہتر یہ ہوتا کہ اضافی پروٹوکول پر خرچ ہونے والے کھربوں روپے فائر بریگیڈ کے ادارے کو تربیت یافتہ غیر سیاسی نئی بھرتیاں کروانے اور مینٹی ننس ڈیپارٹمنٹ پر خرچ کیے جاتے مگر یہ تو مزدوروں کے لیے ایک اچھا قدم ہوتا نا سندھ حکومت کو اس سب سے کوئی مطلب ہے؟ ہر بار الیکشن میں دھاندلی کروا کر ایلکٹڈ کے بجائے سلیکٹڈ لوگ جب ایوانوں میں جائیں گے تو پھر یہی ہوتا رہے گا۔ سانحہ گل پلازہ سے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کراچی کو موہنجوداڑو بنانے کا عزم سندھ حکومت
کی اولین ترجیح ہے کیونکہ جو حشر گل پلازہ کو کھنڈر بنا کر دکھایا گیا ہے وہی اس وقت پورے کراچی کی سڑکوں کا بھی ہے۔ مزدوروں کے بنے بنائے کاروبار گل پلازہ کی آگ کا اژدھا ایک سانحہ کی صورت میں نگل گیا مگر اب تک صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہ ہوسکا اور ہر بار کی طرح اب بھی یہی ہوگا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ سانحہ گل پلازہ نے سندھ حکومت کو ننگا تو کر کے رکھ دیا لیکن حیرت یہ ہے کہ انہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوا اور اب تک فائر بریگیڈ کی ناقص کارکردگی اور اس سانحہ کے اصل ذمہ داران کو سامنے بھی نہیں لایا جاسکا۔ مئیر کراچی نے غریب مزدوروں سے وعدے بھی کیے کہ نقصان کی بھرپائی کے لیے وفاق سے درخواست کی جائے گی۔ ہیں! مگر کیوں وفاق کہاں سے بیچ میں آگیا؟ واہ سائیں واہ۔ محترم قبلہ! آپ کو صرف مانگنا ہی آتا ہے دینا بھی سیکھیں۔ بجٹ میں ایمرجنسی کے لیے جو روپیہ آیا تھا وہ کہاں گیا؟ کب تک آپ کراچی کے مزدوروں کو یہ میٹھی میٹھی باتوں کا لولی پوپ دیتے رہیں گے؟ ایک طرف آپ کے یہ مزدوروں سے کئے ہوئے وعدے اور دوسری طرف گل پلازہ کی اربوں کھربوں کی اراضی باآسانی ہتھیا بھی لی گئی؟ ہاں بھئی! اب کون بلڈوزر کے خرچے اٹھاتا یا مزدوروں کو ایک ایک دوکان کا لاکھوں روپیہ دیتا۔ مزدوروں کی لاشوں کا مینار بنا کر سیاست کر کے سندھ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں کراچی کی عوام سے رتی برابر بھی ہمدردی نہیں ہے۔ غریب مزدوروں کے نقصان کی بھرپائی کے وہی کھوکھلے دعوے ہمیشہ کی طرح کر کے چلتے بنے۔ جب سارا نقصان وفاق نے ہی پورا کرنا ہے تو پھر برائے مہربانی کراچی کو وفاق کے حوالے ہی کردیں کیونکہ اس بات سے بھی آپ کی نااہلی واضح ہوگئی ہے اور آپ سے ہوگا بھی نہیں۔ اگر عوامی مسائل ہی آپ سے نہیں سنبھل رہے ہیں تو پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں تاکہ کسی عوامی نمائندے کو کام کرنے کے لیے آپ کی قبضہ شدہ جگہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ سندھ حکومت کو گل پلازہ کے مزدوروں کا خیر خواہ بنائے اور سانحہ گل پلازہ کے تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین ثمہ آمین

 

ڈاکٹر حافظ سلمان نوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کو مزدوروں کی بھی نہیں گل پلازہ کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن